Brailvi Books

ضیائے صدقات
252 - 408
الْمِسْکِين''. وَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ لَمْ ينسَ خَدَمَنَا''.!؎
وہ شخص جو صدقہ کا حکم دے، دوسرے وہ بيوی جس نے اس لقمہ کو تیار کیا اور تیسرے وہ خادم جس نے یہ صدقہ مسکين تک پہنچایا، اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا، تمام خوبياں اللہ تعالیٰ کے لئے ہيں جو ہمارے خادموں کو بھی محروم نہیں کرتا۔

    ايک اور حديث شريف ميں ارشاد ہے:
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلٰی النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يا رَسُوْلَ اللہِ، عَلِّمْنِيْ عَمَلاً يدخِلُنِي الْجَنَّۃَ؟ قَالَ: ''لإَنْ کُنْتَ أَقْصَرْتَ الْخُطْبَۃَ لَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْئَلَۃَ، أَعْتِقِ النَّسَمَۃَ، وَفُکَّ الرَّقَبَۃَ، فَإِنْ لَّمْ تُطِقْ ذٰلِکَ فَأَطْعِمِ الْجَاءِعَ، وَاسْقِ الظَّمْآنَ''.۲؎ (ملخصاً)
حضرت براء بن عازب ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں، ايک اعرابی آقائے مظلوم، سرورمعصوم، حسن اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، محبوب ر ب اکبر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ ميں حاضر ہوا عرض کی، يارسول اللہ مجھے ايسا عمل سِکھا دیجئے جو مجھے جنّت ميں لے جائے، فرمايااگرچہ تم نے کلام مختصر کیا ہے مگر سوال وسیع کیا ہے ،غلام آزاد کرو اور گردن چھڑاؤاگرتمہیں اسکی طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلاؤ اور پياسے کو پلاؤ۔

    پيٹ بھر روٹی کھلانے والے کو اللہ تعالیٰ دوزخ سے سات خندقيں دور فرماديتا ہے اور ہر خندق کی مسافت پانچ سو سال ہے، چنانچہ حديث شريف ميں ہے:
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

!؎    (المعجم الأوسط للطبراني،الحديث: ۵۳۰۹،ج۵، ص۲۷۸)

(المستدرک علی الصحيحين، الحديث: ۷۱۸۷،ج۴، ص۱۴۹)

۲؎ (المسند للإمام أحمد،مسند البراء بن عازب،الحديث: ۱۸۸۵۰،ج۶، ص۳۵۱)
Flag Counter