| ضیائے صدقات |
عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ صُھَيبٍ عَنْ أَبِيہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِصُھَيبٍ: فِيک سَرَفٌ فِي الطَّعَامِ، فَقَالَ: إِنِّيْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يقُوْلُ: ''خِيارُکُمْ مَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ''.۱؎
حضرت حمزہ بن صُہيب اپنے والد سے روايت نقل کرتے ہيں کہ انہوں نے کہا، کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صہيب سے فرمايا، تمہارے اندر کھانے کے معاملے ميں بے اعتدالی ہے۔ تو انہوں نے جواباً عرض کی ميں نے شہنشاہ خوش خصال، پیکر حسن وجمال، دافع رنج و ملال، صاحب جودو نوال، رسول بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا، تم ميں بہتر وہ ہے جو کھانا کھِلائے۔
مسلمان مسکين کو کھانا کھلانا موجباتِ رحمت سے ہے، چنانچہ حديث شريف ميں ہے:عَنْ جَابِرٍرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''مِنْ مُوْجِبَاتِ الرَّحْمَۃِ إِطْعَامُ الْمُسْلِمِ الْمِسْکِين''.۲؎
حضرت جابر ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے وہ خاتم المرسلین، رحمۃ للعالمین، شفیع المذنبین، انیس الغریبین، سراج السالکین، محبوب رب العالمین، جناب صادق و امین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے روايت نقل کرتے ہيں کہ آپ نے فرمايا، اسبابِ رحمت ميں سے ايک سبب نادار مسلمان کو کھانا کھِلانا ہے۔
صدقہ کردہ کھجور اور روٹی کا ٹکڑا اجر ميں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُحُد پہاڑ کی مثل ہوجاتے ہيں۔مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (المسند للإمام أحمد،مسند صھيب،الحديث: ۲۴۴۲۲،ج۷، ص۹۲۴) ۲؎ (الترغيب والترھيب،کتاب الصدقات، الترغيب في إطعام الطعام...إلخ،الحديث:۹، ج۲،ص۳۳)