Brailvi Books

ضیائے صدقات
249 - 408
أَعَدَّھَا اللہُ لِمَنْ أَلَانَ الْکَلَامَ، وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَتَابَعَ الصِّيامَ، وَصَلّٰی بِاللَّيل وَالنَّاسُ نِيامٌ''.۱؎
سے ديکھا جاتا ہے يہ اللہ نے ان کے لئے بنائے جو بات نرم کريں اور کھانا کھلائيں اور متواتر روزے رکھيں اور جب لوگ سوتے ہوں تو رات ميں نماز پڑھيں۔

    ''يعنی ان کی ديواريں اور کواڑ ايسے صاف و شفاف کہ نگاہ کو نہيں روکتے جس کا نمونہ کچھ دنيا ميں شیشے کی ديواروں اور کواڑوں ميں نظر آتا ہے اس شفافی ميں اس کے حسن و خوبی کی طرف اشارہ ہے''۔

    ''وہ دريچے ان لوگوں کے لئے ہيں جن ميں يہ چار صفات جمع ہوں ہر مسلمان دوست يا دشمن سے نرمی سے بات کرنا، کفار سے سخت کلامی بھی عبادت ہے، رب تعالیٰ فرماتا ہے:
(اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ)
ترجمہ: کافروں پر سخت ہيں (کنزالايمان[الفتح:۴۸/۲۹]) اور فرماتا ہے:
( وَلْیَجِدُوۡا فِیۡکُمْ غِلْظَۃً ؕ )
ترجمہ: اور چاہے کہ وہ تم ميں سختی پائيں (کنزالايمان[التوبۃ:۹/۱۲۳]) ہر خاص و عام کو کھانا کھلانا، اس ميں مشائخ کے لنگروں کا ثبوت ہے بعض بزرگوں کے ہاں چرندوں پرندوں کو بھی دانا پانی ديا جاتا ہے وہ طعام کو بہت عام کرتے ہيں''۔۲؎

    کھلانے پلانے والوں کو سرکار عليہ الصلوٰۃ والسلام نے لوگوں ميں بہتر فرمايا:
مدینــــــــــــــــــہ

۱؎     (المسند للإمام أحمد، مسند أبي مالک الأشعري،الحديث: ۲۳۲۹۳،ج۷، ص۶۰۶)

(مشکاۃ المصابيح،کتاب الصلاۃ، باب التحریض علی قيام الليل،الحديث: ۱۲۳۲، ج۱، ص۲۴۳)

۲؎ (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابيح، ج۲، ص۲۶۰)
Flag Counter