Brailvi Books

ضیائے صدقات
25 - 408
 کے دور ہونے کی بشارت دی جبکہ لینے والے پر احسان نہ جتلائے کہ تم مجبور، مفلس ونادار تھے ہم نے تمہاری اعانت نہ کی ہوتی تو کس حال میں ہوتے وغیرہ۔ (خزائن العرفان ماخوذاً)     

لہٰذا صدقہ کرنے والے کو چاہیے کہ اللہ عزوجل کی رضا اور آخرت میں ثواب کے حصول کے لیے خرچ کرے نہ کہ احسان جتلانے، اس کے عوض میں اس سے خدمت لینے اور اپنے کام نکلوانے کے لیے۔

    سرکارِ مدینہ، راحتِقلب وسینہ، باعث ِنزول ِسکینہ، صاحب ِمعطر پسینہ، فیض گنجینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اپنے ارشاداتِعالیہ میں صدقہ کے فضائل بیان فرمائے اور موقع بموقع مسلمانوں کو ترغیب دلائی کہ وہ ہر حال میں صدقہ ادا کرتے رہیں چنانچہ کچھ احادیث ِمبارکہ نقل کی جاتی ہیں جن سے صدقات کے فضائل واہمیت کے بارے میں بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

(۱)بیشک صدقہ رب عزوجل کے غضب کو بجھاتا اوربُری موت کو دفع کرتا ہے ۔(سنن الترمذي،ج۲،ص۱۴۶،الحدیث۶۶۴)(۲)صدقہ بُرائی کے ستّر دروازے بند کرتا ہے۔ (فردوس الاخبار،ج۲،ص۳۵،الحدیث۳۶۵۱) (۳)صدقہ گناہ کو مٹا دیتاہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتاہے۔(سنن الترمذي،ج۲،ص۱۱۸،الحدیث۶۱۴)(۴)بے شک مسلمان کاصدقہ عمر کو بڑھاتاہے اوربُری موت کوروکتاہے۔(فردوس الاخبار،ج۲، ص۳۵، الحدیث۳۵۷۸)(۵)اللہ عزوجل کے ساتھ، اس کی یاد اورخفیہ وظاہر صدقہ کی کثرت سے اپنی نسبت درست کرو ، توتم روزی اورمدد دئیے جاؤگے اور تمہاری بگڑیاں سنور جائیں گی (سنن ابن ماجہ،ج۲،ص۵،الحدیث۱۰۸۱)(۶) صدقہ ستّر قسم کی بلاؤں