Brailvi Books

ضیائے صدقات
24 - 408
الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلـٰی سَیِّدِ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
پیش لفظ
راہ خدا عزوجل میں خرچ کرنا بہت بڑی سعادت ہے۔جابجا قرآن پاک میں اس کی ترغیب اور فضائل موجود ہیں۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنْبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ وَاللہُ یُضَاعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَاللہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ
ترجمہ کنزالایمان:ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس دانہ کی طرح جس نے اوگائیں سات بالیں ہر بال میں سو دانے اور اللہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لیے چاہے اور اللہ وسعت والا اور علم والا ہے۔    (پ۳، البقرۃ:۲۶۱)

     اس آیت مبارکہ میں اللہ عزوجل نے خرچ کرنے والوں کی تعریف فرمائی ہے یہ خرچ کرنا تمام ابواب خیر کو شامل ہے عام ازیں کہ صدقہ واجبہ سے ہو یا نفلی صدقات سے، (خزائن العرفان ماخوذاً) مزید ارشاد عالیشان ہے کہ
اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَآ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّلَا اَذًی لَّھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ وَلَاخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَاھُمْ یَحْزَنُوْنَ﴿﴾
ترجمہ کنزالایمان:وہ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر دیے پیچھے نہ احسان رکھیں نہ تکلیف دیں ان کا نیگ (ثواب) ان کے رب کے پاس ہے اور انہیں نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔   (پ۳،البقرۃ:۲۶۲)

اس آیت مبارکہ میں بھی خرچ کرنے والوں کو ثواب کے حصول اور خوف وحزن
Flag Counter