| ضیائے صدقات |
عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''إِنَّ فِي الْجَنَّۃِ غُرَفاً يرٰی ظَاھِرُھَا مِنْ بَاطِنِھَا، وَبَاطِنُھَا مِنْ ظَاھِرِھَا''، فَقَالَ: أَبُوْ مَالِکٍ الْأَشْعَرِيُّ: لِمَنْ ھِيَ يا رَسُوْلَ اللہِ؟ قَالَ: ''ھِيَ لِمَنْ أَطَابَ الْکَلَامَ، وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ وَبَاتَ قَاءِماً وَالنَّاسُ نِيامٌ''.۱؎
حضرت عبد اللہ بن عمرو ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سید المبلغین، رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا، بے شک جنّت ميں ايسے بالا خانے ہيں کہ جن کا ظاہر اندر سے نظر آتا ہے اور اندرونی حصہ باہر سے، تو ابو مالک اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی يہ کس کے لئے ہے يارسول اللہ؟ فرمايا جو اچھی بات کہے اور کھانا کھِلائے اور کھڑے ہوکر (يعنی نماز پڑھتے ہوئے) رات گزارے جبکہ لوگ سوئے ہوتے ہيں۔
ايک اور حديث ميں ہے:عَنْ أَبِيْ مَالِکٍ الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''إِنَّ فِي الْجَنَّۃِ غُرَفاً يرٰی ظَاھِرُھَا مِنْ بَاطِنِھَا، وَبَاطِنُھَا مِنْ ظَاھِرِھَا
حضرت ابو مالک اشعری ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہيں، اللہ عزوجل کے محبوب، دانائے غیوب، منزہ عن العیوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا، جنت ميں ايسے دريچے ہيں جن کا باہر اندر سے اور اندر باہر
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (المسند للإمام أحمد،مسند عبد اللہ بن عمرو بن العاص،الحديث: ۶۶۱۵،ج۲، ص۶۱۹) (السنن الکبری للبيھقي،کتاب الصيام، باب من لم ير ...إلخ،الحديث: ۸۴۷۹،ج۴، ص۴۹۵)