بغير دينا ممکن نہ ہو تو وکيل کو دے ديا جائے تاکہ وہ مسکين کے سپرد کردے اور وہ مسکين بھی پہلے دينے والے کو نہ جان سکے کيونکہ مسکين کے جان لينے سے دکھاوا اور احسان کا اظہار دونوں کا امکان ہے البتہ وکيل کا واسطہ رياکاری کا باعث نہ ہوگا اور جب دينے ميں شہرت مقصود ہو تو عمل کا اجر ضائع ہوجاتا ہے کيوں کہ زکوٰۃ کنجوسی کو زائل کرتی ہے اور محبتِمال کو کمزور کرتی ہے اور جاہ و مرتبہ کی حرص مال کی محبت سے زيادہ جلد نفس پر غالب آتی ہے اور دونوں ہی آخرت ميں ہلاکت کی باعث ہيں مگر کنجوسی قبر ميں بچھو کی شکل ميں آتی ہے اور رياکاری گنجے سانپ کی مثل۔اور انسان کو ان دونوں چیزوں کے کمزور کرنے اور مار ڈالنے کا حکم ہے تاکہ ان کی اذیت بالکل نہ ہو یا کم تر ہو وہ جب ریا اور شہرت کا ارادہ کریگا تو گويا وہ بچھو کے بعض اعضاء کو سانپ کی غذا بنائے گا تو ظاہر ہے کہ جس قدر بچھو کمزور ہوگا اسی قدر سانپ زور آور ہوگا اس سے تو اگر ویسا ہی رہنے دیتا تو اس پر آسان ہوتا اور غرض ان صفات کی خواہش کے خلاف عمل کرنے سے ہے مقصد یہ کہ بخل کے سبب کے خلاف تو کرے اور سبب ریا کی اطاعت کرے اس سے تو ادنی چیز کمزور ہو جائے گی اور قوی اور زیادہ قوی ہوگی۔۱؎