Brailvi Books

ضیائے صدقات
243 - 408
بغير دينا ممکن نہ ہو تو وکيل کو دے ديا جائے تاکہ وہ مسکين کے سپرد کردے اور وہ مسکين بھی پہلے دينے والے کو نہ جان سکے کيونکہ مسکين کے جان لينے سے دکھاوا اور احسان کا اظہار دونوں کا امکان ہے البتہ وکيل کا واسطہ رياکاری کا باعث نہ ہوگا اور جب دينے ميں شہرت مقصود ہو تو عمل کا اجر ضائع ہوجاتا ہے کيوں کہ زکوٰۃ کنجوسی کو زائل کرتی ہے اور محبتِمال کو کمزور کرتی ہے اور جاہ و مرتبہ کی حرص مال کی محبت سے زيادہ جلد نفس پر غالب آتی ہے اور دونوں ہی آخرت ميں ہلاکت کی باعث ہيں مگر کنجوسی قبر ميں بچھو کی شکل ميں آتی ہے اور رياکاری گنجے سانپ کی مثل۔اور انسان کو ان دونوں چیزوں کے کمزور کرنے اور مار ڈالنے کا حکم ہے تاکہ ان کی اذیت بالکل نہ ہو یا کم تر ہو وہ جب ریا اور شہرت کا ارادہ کریگا تو گويا وہ بچھو کے بعض اعضاء کو سانپ کی غذا بنائے گا تو ظاہر ہے کہ جس قدر بچھو کمزور ہوگا اسی قدر سانپ زور آور ہوگا اس سے تو اگر ویسا ہی رہنے دیتا تو اس پر آسان ہوتا اور غرض ان صفات کی خواہش کے خلاف عمل کرنے سے ہے مقصد یہ کہ بخل کے سبب کے خلاف تو کرے اور سبب ریا کی اطاعت کرے اس سے تو ادنی چیز کمزور ہو جائے گی اور قوی اور زیادہ قوی ہوگی۔۱؎
کھانا کھلانے اور پانی پلانے کے فضائل
    فرائض و واجبات کو کما حقہ بجالاتے ہوئے صدقات اور دیگر نفلی عبادات و افعال کے سبب اپنے فضل سے اللہ تعالیٰ اپنے نيک بندوں کو بے شمار نعمتيں عطا فرماتا ہے، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (إحياء علوم الدين،کتاب أسرار الزکاۃ، باب دقائق الآداب الباطنۃ في الزکاۃ، الوظيفۃ الثالثۃ،ج۱، ص۳۰۳)
Flag Counter