Brailvi Books

ضیائے صدقات
242 - 408
زکوٰۃ نہ دے سکا تو بيوی خاوند کو زکوٰۃ کيسے دے سکتی ہے صدقہ کا لفظ صدقہ نفلی پر عام شائع ہے''۔۱؎ (ملخصاً)

    امام ابو حامد غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ فرماتے ہيں،

    پوشيدہ صدقہ کا فائدہ يہ ہے کہ رياکاری اور سنانے سے آزادی مِل جاتی ہے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمايا:
لَا يقْبَلُ اللہُ مِنْ مُسْمِعٍ وَلَا مُرَاءٍ وَلَا مَنَّانٍ.
اللہ تعالیٰ ايسے شخص کا صدقہ قبول نہيں فرماتا جو سنانا چاہے نہ دکھاوا کرنے والے کا، نہ احسان جتانے والے کا۔

اور اپنے صدقہ کا تذکرہ کرنے والا (درحقيقت) اس صدقہ کے چرچے کا طالب ہوتا

ہے۔ اور لوگوں کے مجمع ميں دينے والا رياکاری کا طلبگار ہوتا ہے۔ لہٰذا چھپانا اور خاموش رہنا باعثِ نجات ہے۔

    ايک جماعت نے پوشيدگی کی فضيلت ميں اس قدر مبالغہ کيا کہ ان کی کوشش رہی کہ لينے والا بھی نہ جان سکے کہ دينے والا کون ہے؟

    بعض تو نابينا کے ہاتھ ميں ديتے اور بعض فقير کے رستے ميں ڈال ديتے اور فقير کی بيٹھک کے پاس يوں رکھ ديتے کہ دينے والا نظر ہی نہ آتا۔ اور بعض تو سوئے ہوئے فقير کے کپڑوں ميں ڈال ديتے اور بعض دوسروں کے ہاتھ فقير کو يوں بھجواتے کہ اُسے دينے والے کا علم نہ ہو اور دينے والا پہنچانے والے (وکيل) کو چھپانے کا کہہ رکھتا کہ اس کے بارے ميں نہ بتائے ان تمام مساعی کا ثمرہ فقط يہ ہوتا کہ رب تعالیٰ کے غضب کی آگ کو بجھاديں اور دکھاوے اور سنانے سے بچ جائيں اور اگر کسی کو پہچانے
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابيح، ج۳، ص۱۱۸۔۱۲۰)
Flag Counter