| ضیائے صدقات |
اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوۡنَ مِنۡ کَاۡسٍ کَانَ مِزَاجُہَا کَافُوۡرًا ۚ﴿۵﴾عَیۡنًا یَّشْرَبُ بِہَا عِبَادُ اللہِ یُفَجِّرُوۡنَہَا تَفْجِیۡرًا ﴿۶﴾یُوۡفُوۡنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوۡنَ یَوْمًا کَانَ شَرُّہٗ مُسْتَطِیۡرًا ﴿۷﴾وَ یُطْعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیۡنًا وَّ یَتِیۡمًا وَّ اَسِیۡرًا ﴿۸﴾اِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللہِ لَا نُرِیۡدُ مِنۡکُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُکُوۡرًا ﴿۹﴾
ترجمہ کنزالایمان:بيشک نيک پئيں گے اس جام ميں سے جس کی ملونی کافور ہے وہ کافور کيا؟ ايک چشمہ ہے جس ميں اللہ کے نہايت خاص بندے پئيں گے اپنے محلوں ميں اُسے جہاں چاہيں بہا کر لےجائيں گے اپنی منتيں پوری کرتے ہيں اور اس دن سے ڈرتے ہيں جس کی بُرائی پھيلی ہوئی ہے اور کھانا کھلاتے ہيں اس کی محبت پر مسکين اور يتيم اور اسير کو ان سے کہتے ہيں ہم تمہيں خاص اللہ کے لئے کھانا ديتے ہيں تم سے کوئی بدلہ يا شکر گزاری نہيں مانگتے۔ (الدھر:۷۶/۵۔۹)
''شانِ نزول: يہ آيت حضرت علی مرتضیٰ اور حضرت فاطمہ اور ان کی کنيز فضّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے حق ميں نازل ہوئی حسنين کريمين رضی اللہ تعالیٰ عنہما بيمار ہوئے، ان حضرات نے اُن کی صحت پر تين روزوں کی نذر مانی اللہ تعالیٰ نے صحت دی نذر کی وفا (يعنی پورا کرنے) کا وقت آيا سب صاحبوں نے روزے رکھے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ايک يہودی سے تين صاع (صاع ايک پيمانہ ہے) جَو لائے حضرت خاتونِ جنت نے ايک ايک صاع تينوں دِن پکايا ليکن جب افطار کا وقت آيا اور روٹياں سامنے رکھيں تو ايک روز مسکين ايک روز يتيم اور ايک روز اسير آيا اور تينوں روز يہ سب روٹياں ان لوگوں کو ديدی گئيں اور صرف پانی سے افطار کرکے اگلا روزہ رکھ ليا گيا''۔۱؎مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (خزائن العرفان)