اور ''شايد يتيموں سے اُن کے خاوندوں کی وہ اولاد مراد ہے جن کی والدہ فوت ہوچکی تھی يعنی ان کی سوتيلی اولاد انہيں يتيم کہنا مجازاً ہے، ورنہ انسا ن يتيم وہ نابالغ ہوتا ہے جس کا باپ فوت ہوجائے اور جانوروں ميں وہ بچّہ يتيم جس کی ماں مرجائے، ان بيبيوں کا خيال يہ تھا کہ چونکہ يہ سب لوگ ہمارے ساتھ ہی رہتے سہتے ہيں اور ساتھ کھاتے پيتے ہيں، اگر انہيں صدقہ ديا گيا، تو اس کا کچھ حصہ ہمارے کھانے ميں بھی آجائیگا لہٰذا ناجائز ہونا چاہے''۔
اور بيبيوں کا يہ عرض کرنا، کہ يہ نہ بتانا کہ ہم کون ہيں، ''تاکہ حاضرين ميں ہمارا نام نہ ليا جائے اور ہمارا سوال ريا نہ بن جائے يا ہم بلا نہ لی جائيں''۔
''حضرت بلال کا جواب (ابن مسعود کی زوجہ زينب ہيں) نہايت ايمان افروز ہے کيونکہ ان بيبيوں نے کہا تھا کہ ہمارا نام نہ بتانا،حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا نام بتاؤ تو حکم رسول وحکم اُمّتی ميں تعارض ہوا، جناب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حکم کو ترجيح ہوئی اور اُمّتی کا حکم قابل قبول عمل نہ رہا: (صاحبِ) مرقات نے يہاں فرمايا کہ حضرت بلال پر نام بتادينا فرض شرعی ہوگيا، کيونکہ حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا حکم ماننا فرض ہے، انہيں دوسری بی بی کا نام معلوم نہيں تھا ورنہ وہ بھی بتاديتے''۔
''سارے ائمہ اس پر متفق ہيں کہ خاوند اپنی بيوی کو اپنی زکوٰۃ نہيں دے سکتا مگر اس ميں اختلاف ہے کہ بيوی خاوند کو زکوٰۃ دے سکتی ہے يا نہيں، ہمارے امام اعظم فرماتے ہيں کہ نہيں دے سکتی، دیگر ائمہ فرماتے ہيں کہ دے سکتی ہے، اُن بزرگوں کی دليل يہ حديث ہے امام اعظم فرماتے ہيں کہ يہاں صدقہ نفل مراد ہے، صدقہ فرض کی تصريح نہيں، نيز عورت و خاوند کے مال قريباً مشترک ہوتے ہيں، تو جب خاوند بيوی کو