Brailvi Books

ضیائے صدقات
240 - 408
نے ديا ہو بشرطيکہ(انہوں نے) مالک کرديا ہو، لہٰذا يہ حديث امام اعظم کی دليل ہے امام شافعی کے ہاں پہننے کے زيور ميں زکوٰۃ نہيں''۔

    اور حضرت زينب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جو کہا، ''يعنی اگر تم کو ميرا صدقہ دينا درست ہو تو تب تو ميں تم ہی کو صدقہ دے دوں، ورنہ کسی اور کو دوں: اس سے معلوم ہوا غنی عورت کا خاوند اور غنی خاوند کی بيوی ايک دوسرے کے غنٰی سے غَنِی نہ مانے جائيں گے، جيسے امير کی بالغ اولاد باپ کے غنا سے غنی نہيں ہوتی، ديکھو حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بيوی غنيہ تھيں مگر خود ابن مسعود مسکين تھے''۔

    ''حضرت ابن مسعود کی کچھ اولاد بھی تھی، اور اب حضرت زينب اُن کی پرورش فرماتی تھيں، غيرکم ميں ان سب سے خطاب ہے، يعنی اگر تمہيں اور تمہارے ان بچوں کو ميرا صدقہ لينا درست ہو تو ميں تمہيں دے دوں ورنہ دوسروں کو دوں''۔

    اور راويہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وہ فرمان، کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر قدرتی ہيبت دی گئی، ''يعنی رب العالمين نے دلوں ميں آپ کی ہيبت ڈال دی تھی جسکی وجہ سے ہر شخص بغير اجازت خدمت ميں حاضر ہونے، عرض معروض کرنے کی ہمت نہ کرتا تھا، اور حاضرين بارگاہ بھی ايسے خاموش اور با ادب بيٹھتے تھے جيسے انکے سروں پر پرندے ہيں، حالانکہ سرکار انتہائی خليق اور بہت رحيم و کريم تھے، شعر

ہيبتِ حق است ايں از خلق نيست ز ہيبت ايں مرد صاحب دلق نيست

    اسی وجہ سے دونوں بيبياں دروازے پر کھڑی رہ گئيں، بارگاہ پاک ميں بارياب نہ ہوئيں''۔