Brailvi Books

ضیائے صدقات
238 - 408
فَقَالَ عَبْدُ اللہِ بَلِ ائْتِيہ أَنْتِ، فَانْطَلَقْتُ، فَإِذَا امْرَأَۃٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ بِبَابِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَحَاجَتِیْ حَاجَتُہَاقَالَتْ وَکَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ قَدْ أُلْقِیَتْ عَلَیْہِ الْمَہَابَۃُ فَقَالَتْ فَخَرَجَ عَلَیْنَا بِلَالٌ فَقُلْنَا لَہُ اِئْتِ رَسُوْلَ اللہِ فَأَخْبِرْہُ عَنِ امْرَأَتَیْنِ بِالْبَابِ تَسْأَلَانِکَ: أَتَجْزِیئُ الصَّدَقَۃَ عَنْہُمَا عَلٰی اَزْوَاجِہِمَا وَعَلٰی أَیْتَامٍ فِیْ حُجُوْرِھِمَا؟، وَلَا تُخْبِرْہُ مَنْ نَحْنُ. قَالَتْ: فَدَخَلَ بِلَالٌ عَلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَہُ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''مَنْ
ہوکر پوچھ آؤ اگر تم پر ميرا صدقہ کرنا درست ہو تو خير ورنہ ميں آپ لوگوں کے سواء کسی اور جگہ خرچ کروں، فرماتی ہيں، کہ مجھ سے عبد اللہ بولے، کہ تم ہی وہاں جاؤ، لہٰذا ميں چلی گئی تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے درِ اقدس پر ايک اور انصاری بی بی تھيں جنہيں ميرے جيسا ہی کام تھا، فرماتی ہيں، کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر قدرتی ہيبت دی گئی تھی، فرماتی ہيں، کہ ہمارے پاس حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے ہم نے اُن سے عرض کيا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت ميں جائيں اور عرض کريں کہ دروازے پر دو بيبياں ہيں جو حضورسے پوچھتی ہيں کہ کيا اُن کا اپنے خاوندوں اور اُن يتيموں پر خرچ کردينا جو اُن کی پرورش ميں ہوں صدقہ بن جائیگا؟ اور يہ نہ بتانا کہ ہم کون ہيں، فرماتی ہيں، کہ حضرت بلال ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت ميں حاضر ہوئے اور مسئلہ پوچھا، اُن سے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ
Flag Counter