| ضیائے صدقات |
اب جبکہ آپ ان باتوں کو سمجھ گئے تو يہ بھی جان ليجئے کہ اس بارے میں جو اختلاف منقول ہوا وہ اختلاف نفس مسئلہ میں نہیں ہے بلکہ یہ اختلاف لوگوں کے احوال کے اعتبار سے ہے۔ تو اس راز سے پردہ يوں اُٹھتا ہے کہ ہم قطعی فيصلہ تو نہيں دے سکتے کہ پوشيدہ دينا ہر حال ميں افضل ہے يا ظاہر کرکے؟ مگر (اتنا بتاديں کہ) نيتوں کے بدلنے سے احکام تبديل ہوجاتے ہيں اور نيتيں، احوال و اشخاص کی تبديلی سے بدل جاتی ہيں لہٰذا لازم ہے کہ مخلص آدمی اپنے نفس کی محافظت کرے تاکہ نہ تو دھوکے کی سولی پر لٹکے اور نہ طبیعت کے بناوٹی پن اور شیطان کے مکر ميں آئے۔ ۱؎
حديث شريف ميں ہے:عَنْ زَينبَ الثَّقَفِيۃ امْرَأَۃِ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْھُمَا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''تَصَدَّقْنَ يا مَعْشَرَ النِّسَاءِ وَلَوْ مِنْ حُلِيکنَّ''، قَالَتْ: فَرَجَعْتُ إِلٰی عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، فَقُلْتُ: إِنَّکَ رَجُلٌ خَفِيفُ ذَاتِ الْيد، وَإِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَنَا بِالصَّدَقَۃِ فَأْتِہِ فَاسْأَلْہُ، فَإِنْ کَانَ ذٰلِکَ يجْزِي عَنِّيْ وَإِلَّا صَرَفْتُھَا إِلٰی غَيرکُمْ،
زوجہ حضرت عبد اللہ بن مسعود حضرت زينب ثقفيہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے، فرماتی ہيں، سرکاروالا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیع روزشمار، دو عالم کے مالک و مختار، حبیب پروردگار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا، اے عورتوں کی جماعت صدقہ کرو اگرچہ اپنے زيور سے ہی ہو، فرماتی ہيں، ميں عبد اللہ کی طرف لوٹی کہا، تم کچھ مسکين و تنگدست ہو اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہم کو صدقہ کا حکم ديا ہے تم وہاں حاضر
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (إحياء علوم الدين،کتاب أسرار الزکاۃ، الفصل الرابع في صدقۃ التطوع وفضلھا وآداب أخذھا وإعطائھا، بيان إخفاء الصدقۃ وإظھارہا، ج۱،ص۳۲۱۔۳۲۲)