مرغياں لے جاؤ اور وہاں جاکر ذبح کرنا جہاں کوئی نہ ديکھے، وہ تمام گئے اور ذبح کرآئے جبکہ وہ مريد ويسے ہی مرغی واپس لے کر لَوٹ آيا، شيخ صاحب نے ان مريدوں سے پوچھا تو انہوں نے جواب ديا کہ جو شيخ نے حکم ديا ہم نے کيا، شيخ نے اس خاص مريد سے سوال کيا، آپ نے دیگر ساتھيوں کی طرح مرغی ذبح کيوں نہ کی؟ اس مريد نے جواب ديا، مجھے کوئی ايسی جگہ نہ ملی جہاں مجھے کوئی بھی نہ ديکھتا ہو، بے شک اللہ تعالیٰ مجھے ہر ہر جگہ ديکھ رہا ہے۔ تو شيخ صاحب نے فرمايا، اسی لئے ميں اس کی طرف زيادہ متوجہ ہوں کہ يہ غير اللہ عزوجل کی طرف متوجہ نہيں۔
(۴)دينے ميں اظہار کرنے سے ادائیگی شکر کی سنّت کا قيام ہوتا ہے،
اللہ تعالیٰ نے فرمايا: