| ضیائے صدقات |
جب اللہ اپنے کسی بندے کو نعمت سے مشرف فرماتا ہے تو پسند فرماتا ہے کہ وہ نعمت اس پر دکھائی دے۔
ايک شخص نے کسی زاہد کو چھپا کر کوئی چيز دی تو انہوں نے لينے سے ہاتھ کھينچ ليا اور فرمايا يہ دنيوی ہے، اسے ظاہر کرنا افضل ہے اور اُخروی امور ميں چھپانا افضل ہے۔
اسی لئے ايک نيک بزرگ نے فرمايا، جب تمہيں مَجمع ميں کچھ ديا جائے تو لے لو اور پھر تنہائی ميں لَوٹا دو اور اس پر شکر ادا کرنے کی رغبت دلائی گئی ہے۔
خاتم المرسلین، رحمۃ للعالمین، شفیع المذنبین، انیس الغریبین، سراج السالکین، محبوب رب العالمین، جناب صادق و امین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا:مَنْ لَّمْ يشْکُرِ النَّاسَ لَمْ يشْکُرِ اللہَ عزوجل .۲؎
جس نے لوگوں کا شکريہ ادا نہ کيا اس نے اللہ عزوجل کا بھی شکر ادا نہ کيا۔
اور شکريہ ادا کرنا بدلہ دينے کے قائم مقام ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا:مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (المسند للإمام أحمد بن حنبل، مسند مالک بن نضلۃ، الحديث: ۱۵۹۸۷، ج۵،ص۴۵۶) (الثقات لابن حبان، الحديث: ۱۲۳۴،ج۳، ص۳۷۶) (التمھيد لابن عبد البر،ج۳،ص۲۵۴) (مسند الشھاب،الحديث: ۱۱۰۰،ج۲، ص۱۶۱) (تاريخ جرجان،ج ۱،ص۱۴۲) (المعجم الکبير للطبراني،الحديث: ۴۱۸،ج۱۸، ص۱۸۱) (نصب الرايۃ، ج۴،ص۲۸۳) ۲؎ (المسند للإمام أحمد بن حنبل، مسند أبي ہريرۃ،الحديث: ۷۴۹۵،ج۳، ص۸۴) (سنن الترمذي، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء في الشکر لمن أحسن إليک، الحديث: ۱۹۵۵،ج۳،ص۸۹)