Brailvi Books

ضیائے صدقات
233 - 408
 (۲)جاہ و مرتبہ کو ساقط کردينا، بندگی اور مسکينيت کا اظہار، تکبر اور تونگری کے دعووں سے آزاد ہونا اور مخلوق کی نظروں ميں اپنے نفس کو حقير ٹھہرانا۔

    ايک صاحبِ معرفت بزرگ نے اپنے شاگرد سے فرمايا، صدقہ لينے کو ہر حالت ميں ظاہر کيا کرواس لئے کہ ليتے وقت دو قسم کے بندوں سے واسطہ پاؤگے، ايک تو وہ شخص ہوگا کہ جب تم صدقہ لينے کو ظاہر کروگے تو وہ بددل ہوگا اور يہی مقصود ہے کيونکہ يہ تمہارے دين کی بقاء ہے اور تمہارے نفس کی آفات کی کمی کا باعث ہے يا پھر ايسے شخص سے واسطہ پڑے گا جس کے دل ميں، تمہارے سچ کے اظہار کی وجہ سے، تمہاری محبت بڑھے گی اور يہی تمہارا بھائی چاہتا ہے کيونکہ وہ تم سے جتنی زيادہ محبت اور جتنی زيادہ تمہاری تعظيم کریگا تو اسی قدر اس کے ثواب ميں اضافہ ہوگا۔

(۳)اظہار کے تيسرے معنی يہ ہيں کہ عارف باللہ کی نظر چھپے وظاہر دونوں حال ميں صرف اللہ تعالیٰ پر ہوتی ہے تو اس حال کا مختلف ہوناعارفین کے نزدیک توحید میں شرک ہے ۔کسی عارف نے فرمايا، ہم اس شخص کی دعا کا اعتبار نہيں کرتے جو پوشيدہ طور لے لے اور علانيہ کو رد کردے۔ لوگ موجود ہوں يا غائب مخلوق کی جانب توجہ کرنا نقصان ہی کا موجب ہے بلکہ ضروری ہے کہ انسان کی نظر صرف ذاتِ واحد پر لگی رہے۔

    حکايت کی گئی ہے کہ ايک شيخ اپنے ايک مريد پر سب سے زيادہ توجہ فرماتے، دیگر کو يہ بات تکليف کا باعث بنی، چنانچہ شيخ صاحب نے اپنے اس مريد کی اوروں پر بڑائی کو ظاہر فرمانا چاہا، لہٰذا سب مريدين کو ايک ايک مرغی دے دی اور فرمايا تم سب