Brailvi Books

ضیائے صدقات
232 - 408
ہے اور مومن اپنے نفس کو ذليل نہيں کرتا ايک عالم پوشيدہ طور پر لے ليتے تھے جبکہ ظاہر کرکے ديا جاتا تو نہ ليتے اور فرماتے، اس کے اظہار ميں علم کی ذلت اور علماء کی اِہانت ہے، تو ميں علم کو پست کرکے اور اہل علم کو ذليل کرکے کسی دنيوی چيز کو برتری نہيں ديتا۔

(۵)(چھپا کر صدقہ دينے سے) شرکت کے شبہ سے بچاؤ ہوتا ہے،اللہ عزوجل کے محبوب، دانائے غیوب، منزہ عن العیوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا:

    ''جس آدمی کو کوئی تحفہ ديا جائے جبکہ اس کے پاس اور بھی لوگ موجود ہوں تو وہ سب اس تحفہ ميں شريک ہيں۔ ''پھر اگر وہ دی جانے والی شے چاندی يا سونا بھی ہو (يعنی کتنی ہی قيمتی شے ہو) تو بھی تحفہ کے زمرے سے خارج نہ ہوگا۔ 

    شہنشاہ خوش خصال، پیکر حسن وجمال، دافع رنج و ملال، صاحب جودو نوال، رسول بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمايا:افضل ہدیہ جو کوئی اپنے بھائی کو بھیجے چاندی ہے یا کھانا کھلانا۔حدیث میں چاندی کو بھی ہدیہ فرمایا اس سے معلوم ہوا کہ مجلس میں کسی خاص شخص کو اہل مجلس کی رضا مندی کے بغیر کچھ دینا مکروہ ہے اور رضامندی کا حال مشتبہ رہتا ہے اس ليے تنہا ئی میں دے دینا اس شبہ سے محفوظ رکھتا ہے۔
    صدقہ ظاہر کرکے دينا:
    صدقہ ظاہر کرکے دينے اور اسکا تذکرہ کرنے ميں چار معانی ہيں:

(۱) اخلاص، سچائی، اپنے حال کو دھوکے سے سلامت رکھنا اور دکھاوے سے بچے رہنا۔
Flag Counter