Brailvi Books

ضیائے صدقات
231 - 408
معاونت بھی نيکی ہے اور چھپانا دونوں (لينے والے اور دينے والے) کے ذریعہ ہی ممکن ہوگا کہ جب بھی ظاہر کيا جائے گا تو دينے والے کا راز کھُل جائے گا۔

    ايک شخص نے کھلے عام کسی عالم کو کوئی چيز دی تو انہوں نے اسے واپس کردیا پھر کسی نے پوشيدہ طور پر دی تو انہوں نے قبول کرلی ان سے اس کے متعلق پوچھا گيا تو فرمايا کہ دوسرے نے اپنا صدقہ چھپا کر دينے ميں ادب سے کام ليا تو ميں نے قبول کيا جبکہ پہلے نے اپنے عمل ميں بے ادبی کی لہٰذا ميں نے اس کا عطيہ لَوٹا ديا۔

    کسی شخص نے ايک صوفی بزرگ کو مجلس ميں کوئی چيز دی تو انہوں نے واپس کردی اس نے کہا آپ نے اللہ عزوجل کاعطیہ کيوں واپس کرديا؟ تو انہوں نے جواب ديا تو نے خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر خرچ کی جانے والی چيز ميں اس کے غير کو شريک کيا اور اللہ عزوجل پر قناعت نہ کی تو ميں نے تيرا شرک (يعنی لوگوں پر اظہار کرکے نہ کہ معاذ اللہ عبادت ميں شرک) واپس کرديا۔

    ايک عارف باللہ بزرگ نے پوشيدگی ميں وہی چيز قبول کرلی جو علانيہ دئيے جانے پر لَوٹادی تھی۔ اس پر ان سے پوچھا گيا تو جواباً فرمايا تم علانيہ دے کر اللہ تعالیٰ کے نافرمان ہوئے تو ميں اس معصيت پر تمہارا معاون نہ ہوا مگر جب خفيہ طور پر دے کر تم اللہ تعالیٰ کے مطيع ہوئے تو ميں نے تمہاری اس بھلائی ميں مدد کی۔ 

    حضرت سفيان ثوری فرماتے ہيں اگر مجھے يقين ہوجاتا کہ وہ لوگ اپنے صدقہ کا تذکرہ نہيں کريں گے اور نہ کسی سے چرچا کريں گے تو ميں ان کا صدقہ ضرور قبول کرتا۔

(۴)(چھپا کردينا اس لئے بھی بہتر ہے) کيونکہ ظاہری طور پر لينے ميں ذلّت اور توہين