(۱) اس طرح لینے والے کا پردہ رہ جاتا ہے کیونکہ ظاہری طور پر لينے سے اس کی عزت ووقار کا پردہ اٹھ جاتا ہے ،حاجت سامنے آجاتی ہے اور اس عفت کی صورت سے خارج ہو جاتاہے جو پسندیدہ ہے اور اس سے متصف شخص کو بے خبر مال دار سمجھتے ہیں کیونکہ وہ مانگنے سے پرہیز کرتا ہے۔
(۲)چھپاکر دينے سے فقير، لوگوں کے دلوں (کے گمان) اور زبانوں (کے چرچے) سے محفوظ رہ جاتا ہے کيونکہ وہ بسا اوقات يا تو اس سے حسد کربہٹھتے ہيں يا اس کے لينے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہيں اور ان کا گمان يہ ہوتا ہے کہ وہ بے نياز ہوتے ہوئے لے رہا ہے يا اس کی نسبت زيادہ لينے کی طرف کرتے ہيں حالانکہ حسد، بدگمانی اور غيبت گناہ کبيرہ ہيں اور ان لوگوں کو ان برائيوں سے بچائے رکھنا ہی بہتر ہے۔ حضرت ايوب سختيانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمايا، ميں نئے کپڑے نہيں پہنتا کہ کہيں ميرا ہمسايہ مجھ سے حسد نہ کرے۔ ايک زاہد نے فرمايا کہ ميں نے بسا اوقات اپنے بھائيوں کے (تنقيد کرنے کے) خوف سے کسی چيز کے استعمال کو چھوڑ ديا کہ کہيں وہ يہ نہ کہہ بہٹھيں کہ يہ اس کے پاس کہاں سے آئی؟ حضرت ابراہيم تيمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں کہ ان کے جسم پر ايک نئی قميص نظر آئی تو ان کے ايک بھائی نے پوچھا يہ آپ کے پاس کہاں سے آئی ہے؟ انہوں نے فرمايا مجھے يہ حضرت خيثمہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پہنائی ہے اور اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ان کے گھر والے اس کے متعلق جان جائيں گے تو کبھی اسے قبول نہ کرتا۔
(۳)چھپا کر صدقہ دينا، دينے والے کے عمل کو راز رکھنے ميں معاون ثابت ہوتا ہے کيونکہ ظاہر کرکے دينے کے مقابلہ ميں چھپا کر دينا افضل ہے اور نيکی کی تکميل ميں