Brailvi Books

ضیائے صدقات
229 - 408
    تين شخصوں کو اللہ تعالیٰ محبوب رکھتا ہے اور تین کو مبغوض ، چنانچہ:
عَنْ أَبِيْ ذَرٍّرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''ثَلَاثَۃٌ يحبُّھُمُ اللہُ، وَثَلَاثَۃٌ يبغِضُھُمُ اللہُ، فَأَمَّا الَّذِين يحبُّھُمُ اللہُ: فَرَجُلٌ أَتٰی قَوْماً فَسَأَلَھُمْ بِاللہِ، وَلَمْ يسأَلْھُمْ بِقَرَابَۃٍ بَينہُ وَبَينھُمْ فَمَنَعُوْہُ فَتَخَلَّفَ رَجُلٌ بِأَعْقَابِھِمْ فَأَعْطَاہُ سِرّاً لَا يعْلَمُ بِعَطِيتہِ إِلَّا اللہُ وَالَّذِيْ أَعْطَاہُ.۱؎ (الحديث)
حضرت ابو ذر ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، کہ سید المبلغین، رحمۃللعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا، تین شخصوں کو اﷲ عزوجل محبوب رکھتا ہے اور تین شخصوں کو مبغوض۔ جن کو اﷲ عزوجل محبوب رکھتا ہے، ان میں ایک یہ ہے کہ ایک شخص کسی قوم کے پاس آیا اور اُن سے اﷲ عزوجل کے نام پر سوال کیا، اس قرابت کے واسطے سے سوال نہ کیا، جو سائل اور قوم کے درمیان ہے، انہوں نے نہ دیا، اُن میں سے ایک شخص چلا گیا اور سائل کو چھپا کر دیا کہ اس کو اﷲ عزوجل جانتا ہے اور وہ شخص جس کو دیا اور کسی نے نہ جانا۔

    صدقہ کو چھپانا بہتر ہے یا ظاہر کرنا؟ امام غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ فرماتے ہيں:

    اس معاملہ ميں اخلاص کے شيدائيوں کا طريقہ اور ہے ايک قوم کے نزديک چھپانا افضل ہے جبکہ دوسری اظہار کو بہتر جانتی ہے ہم ان دونوں کے معانی اور آفات کے رموز کی جانب راہنمائی کرتے ہيں پھر حقيقت سے پردہ بھی اُٹھائيں گے:

    جہاں تک پوشيدگی کی بات ہے تو اس ميں پانچ معانی ہيں:
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (الترغيب والترھيب،کتاب الصدقات، الترغيب في صدقۃ السر،الحديث:۷، ج۲،ص۱۷)
Flag Counter