Brailvi Books

ضیائے صدقات
228 - 408
رياء نہيں تبليغ ہے يعنی ميں رب تعالیٰ سے ڈرتا ہوں تو بھی ڈر''۔

    دائيں ہاتھ سے دے اور بائيں کو خبر نہ ہو سے، ''يہاں صدقہ نفلی مراد ہے صدقہ فرض اور چندے کے موقعہ پر صدقہ نفل علانيہ دينا مستحب ہے لہٰذا يہ حديث اس آيت کے خلاف نہيں:
(اِنۡ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا ہِیَ ۚ )''۱؎
ترجمہ: اگر خيرات علانيہ دو تو کيا ہی اچھی بات ہے(کنزالايمان[البقرۃ:۲/۲۷۱])۔

    امام محمد بن عبد الباقی زرقانی اس حديث کی شرح ميں فرماتے ہيں کہ اللہ کے سائے سے مراد يہ ہے کہ وہ سايہ اللہ کی ملکيت ميں ہے کيونکہ ہر سايہ (چاہے کسی بھی چيز کا ہو) اللہ ہی کی مِلک ہے يہی قاضی عياض (صاحبِ شفاء شريف) کا بھی قول ہے يا اس سايہ کی اللہ تعالیٰ کی جانب اضافت کا مقصد اس سايہ کی بلندی شان کا اظہار ہے جيسا کہ کعبہ کو بيت اللہ (اللہ کا گھر) کہا جاتا ہے حالانکہ تمام مساجد اللہ ہی کی ملکيت ہيں اور يہ بھی کہا گيا کہ سايہ سے مراد اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جيسا کہ کہا جاتا ہے فلاں، بادشاہ کے زير سايہ ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ سايہ سے مُنَزَّہ ہے کيونکہ سايہ تو جسم کا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ جسمانيت سے پاک ہے۔

    اور دائيں ہاتھ سے دے کہ بائيں کو خبر نہ ہو کی شرح ميں علامہ زرقانی فرماتے ہيں، يعنی لوگوں سے چھپائے اور اس حديث کا ظاہر يہ ہے کہ يہ حکم فرض اور نفل دونوں صدقات کو شامل ہے ليکن امام نووی نے علماء سے نقل کيا کہ فرض صدقہ کو ظاہر کرکے دينا بہتر ہے۔ ۲؎ ملخصاً
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابيح، ج۱، ص۴۳۵۔۴۳۶)

۲؎ (شرح الزرقاني علی المؤطا للإمام مالک، تحت الحديث المذکور،ج۴، ص۴۰۰۔۴۰۱)
Flag Counter