''صوفياء کہتے ہيں کہ مومن مسجد ميں ايسے ہوتا ہے جيسے مچھلی پانی ميں اور منافق ايسا جيسے چڑيا پنجرے ميں اسی لئے نماز کے بعد بلاوجہ فوراً مسجد سے بھاگ جانا اچھا نہيں خدا توفیق دے تو مسجد ميں پہلے آؤ اور بعد ميں جاؤ۔ اور جب باہر آؤ تو کان اذان کی طرف لگے رہيں کہ کب اذان ہو اور مسجد کو جائيں''۔
اللہ کے لئے محبت کرنے سے مراد، ''کہ جس کی محبت سے رب راضی ہو اس سے محبت کريں اور جس کی نفرت سے رب راضی ہو اس سے نفرت کريں بے دين اور بدعمل اولاد سے نفرت، متقی اجنبی سے محبت عبادت ہے،
؎ ہزار خويش کہ بیگانہ از خدا باشد ز فدائے يک تن بیگانہ کآشنا باشد
(ہزاروں اپنے، خدا سے بیگانے ہيں اور اس ايک بیگانے پر فِدا جو خدا سے آشنا ہو)۔
يونہی گہرے دوست کی بد عقيدگی پر واقف ہوکر اس سے الگ ہوجانا اور جانی دشمن کے تقویٰ پر خبردار ہوکر اس کا دوست بن جانا بہترين عمل ہے''۔
''خوفِ خدا يا عشقِ جنابِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ميں روئے، تنہائی کی قيد اس لئے لگائی کہ سب کے سامنے رونے ميں رياء کا انديشہ ہے''۔
خاندانی عورت بلائے، ''يعنی خودايسی عورت اس سے بدفعلی کی خواہش کرے اور يہ اس نازک موقعہ پر محض خوفِ خدا سے بچ جائے يہ بہت مشکل ہے۔ اسی لئے رب تعالیٰ نے يوسف علیہ السلام کے اس فعل شريف کی تعريف قرآن ميں فرمائی۔ اللہ (ايسا تقویٰ) نصيب کرے، خيال رہے کہ ايسے نازک موقعہ پر عورت سے يہ کہہ دينا