مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ''اللہ تعالیٰ اپنے سايہ ميں رکھے گا'' کے تحت فرماتے ہیں،''يعنی اپنی رحمت ميں يا عرش اعظم کے سايہ ميں تاکہ قيامت کی دھوپ سے محفوظ رہے''۔
عادل بادشاہ سے مرادہے وہ مومن بادشاہ اور حکّام جو رعايا ميں انصاف کرتے ہيں۔ کيونکہ دنيا ان کے سايہ ميں رہتی تھی لہٰذا يہ قيامت ميں رب تعالیٰ کے سايہ رحمت ميں رہے گا۔ يہ ان تمام سے افضل ہے اس لئے اس کا ذکر سب سے پہلے ہوا۔ عادل حکّام بھی اس بشارت ميں داخل ہيں''۔
'' جواللہ کی عبادت ميں جوانی گزارے '' کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں، ''يعنی جوانی ميں گناہوں سے بچے اور رب کو ياد رکھے چونکہ جوانی ميں اعضاء قوی اور نفس گناہوں کی طرف مائل ہوتا ہے اس لئے اس زمانہ کی عبادت بڑھاپے کی عبادت سے افضل ہے،
؎ در جوانی توبہ کردن سنت پیغمبری است ز وقت پيری گرگ ظالم ميشود پرہيزگار''
(يعنی جوانی ميں اللہ کی بارگاہ ميں رجوع کرنا پیغمبروں کا طريقہ ہے اور بڑھاپے کے وقت تو ظالم بھیڑيا بھی پرہيزگار بن جاتا ہے)۔