| ضیائے صدقات |
سے بڑائی مارے تو يہ بھی احسان جتانا ہے اور مانگنے پر جھڑک دينا اور بے عزتی کرنا اذيت پہنچانا ہے۔۱؎
حديث شريف ميں ہے:عَنْ بَھْزِبْنِ حَکِيم عَنْ أَبِيہ عَنْ جَدِّہِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''إِنَّ صَدَقَۃَ السِّرِّ تُطْفِيئُ غَضَبَ الرَّبِّ''.۲؎
حضرت بہز بن حکيم اپنے والد اور وہ اپنے والد سے روايت کرتے ہيں کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور، سلطان بحرو بر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے مروی ہے فرماتے ہيں، بے شک مخفی صدقہ رب تعالیٰ کے غضب کو بجھاتا ہے۔
ايک اور حديث شريف ميں ہے:عَنْ أَبِيْ أُمَامَۃَرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ قَالَ: يا رَسُوْلَ اللہِ مَا الصَّدَقَۃُ؟ قَالَ: ''أَضْعَافٌ مُّضَاعَفَۃٌ، وَعِنْدَ اللہِ الْمَزِيد''، ثُمَّ قَرَأَ:
''(مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یُقْرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗۤ اَضْعَافًا کَثِیۡرَۃً ؕ)
حضرت ابی امامہ ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہيں، ابو ذر نے عرض کی يارسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم صدقہ کيا ہے؟ فرمايا، وہ چند در چند (دُونا دون) ہے اور اللہ کے ہاں زيادتی علاوہ ہے پھر تلاوت فرمائی، ہے کوئی جو اللہ کو قرض حسن دے تو اللہ اُس کے لئے بہت گُنا بڑھا دے .(کنزالايمان)[البقرۃ:۲/۲۴۵]
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (إحياء علوم الدين،کتاب أسرار الزکاۃ، بيان دقائق الباطنۃ في الزکاۃ، الوظيفۃ الخامسۃ،ج۱، ص۳۰۴) ۲؎ (المعجم الکبير للطبراني، الحديث: ۱۰۱۸،ج ۱۹،ص۴۲۱) (مجمع الزوائد، باب صدقۃ السر،ج۳، ص۱۱۵) (تلخيص الجبير، باب صدقۃ التطوع،الحديث: ۱۴۲۸،ج۳، ص۱۱۴)