| ضیائے صدقات |
کامال فقیر کے حوالے کرنے کو ناپسندکرنا حماقت ہے اس لئے کہ جو ايک ہزار درہم کی چيز پر ايک درہم خرچ کرنے کو پسند نہ کرے تو وہ نرا احمق ہے۔ جبکہ خرچ کرنے والا اپنامال یا تو اللہ عزوجل کی رضا اور دارِ آخرت ميں ثواب پانے کے لئے خرچ کریگا اوریہ سب سے افضل ہے،یا اپنے نفس کو بخل کی گندگی سے پاکيزہ کرنے ياپھر نعمتوں کے شکرانے کے طورپر خرچ کریگا تاکہ اس پر نعمتیں زیادہ ہوں۔ ان میں سے کسی بھی نیت کے ساتھ مال خرچ کرنے میں ناپسندیدگی کی کوئی وجہ نہیں۔۱؎
قرآن مجيد ميں ہے:وَالَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوَالَہُمْ رِئَآءَ النَّاسِ . الآیۃ
ترجمہ کنزالایمان: اور وہ جو اپنے مال لوگوں کے دکھاوے کو خرچ کرتے ہيں.(النساء:۴/۳۸)
بخل کے بعد صرفِ بےجا کی بُرائی بيان فرمائی کہ جو لوگ محض نمود و نمائش اور نام آوری کے لئے خرچ کرتے ہيں اور رضائے الٰہی انہيں مقصود نہيں ہوتی جيسے کہ مشرکين و منافقين يہ بھی انہيں کے حکم ميں ہيں۔ ۲؎
حضرت سفيان فرماتے ہيں، جو شخص احسان جتائے اس کا صدقہ فاسد ہوجاتا ہے، عرض کی گئی: احسان جتانا کسے کہتے ہيں؟ فرمايا اسکا تذکرہ کرنا اور اسکا بيان کرنا اور يہ بھی کہا گيا ہے کہ احسان جتانا دے کر خدمت لينا بھی ہے اور فقير کو اسکی محتاجی پر عار دلانا اذیت ناک ہوتا ہے، اور يہ بھی کہا گيا ہے کہ دئيے ہوئے مال کی وجہمدینــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (إحياء علوم الدين، کتاب أسرار الزکاۃ، بيان دقائق الآداب الباطنۃ في الزکاۃ، الوظيفۃ الخامسۃ،ج۱، ص۳۰۵) ۲؎ (خزائن العرفان)