Brailvi Books

ضیائے صدقات
224 - 408
قِيل: يا رَسُوْلَ اللہِ أَيُّ الصَّدَقَۃِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ''سِرٌّ إِلٰی فَقِير أَوْ جُھْدٌ مِّنْ مُقِلٍّ''، ثُمَّ قَرَأَ:
(اِنۡ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا ہِیَ ۚ )''۱؎  الآیۃ.
تو عرض کی گئی يا رسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کونسا صدقہ افضل ہے؟ فرمايا، چھپا کر فقير کو ديا جائے يا محنت کی کمائی کا ہو پھر تلاوت فرمائی، اگر خيرات علانيہ دو تو وہ کيا ہی اچھی بات ہے (کنزالايمان) ۔[البقرۃ:۲/۲۷۱]

    چند در چند، ''اس جملے کے دو مطلب ہوسکتے ہيں، ايک يہ کہ صدقہ کی برکتيں دنيا ميں تو چند در چند ہيں، اور کل قيامت ميں جو زيادتياں ہونگی وہ ہمارے حساب سے وراء ہيں رب تعالیٰ فرماتا ہے:
(یَمْحَقُ اللہُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِ ؕ )
(ترجمہ: اللہ ہلاک کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے خيرات کو(کنزالايمان)) [البقرۃ:۲/۲۷۶] تجربہ بھی ہے کہ صدقہ سے مال بہت بڑھتا ہے دوسرے يہ کہ قيامت ميں صدقہ کا ثواب دس سے سات سو گنا تک ہے، اور جو زيادتياں رب عطا فرمائے گا، وہ حساب سے زيادہ ہيں، رب تعالیٰ فرماتا ہے:
 (وَاللہُ یُضٰعِفُ لِمَنۡ یَّشَآءُ ؕ)
 (ترجمہ: اور اللہ اس سے زیادہ بڑھائے جس کے لئے چاہے (کنزالايمان))''۔۲؎ [البقرۃ:۲/۲۶۱]

    سات قسم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنے سايہ رحمت ميں رکھے گا، چنانچہ:
عَنْ أَبِيْ ھُرَيرۃَرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ
حضرت ابو ہريرہ ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں،ميں نے حضورپاک، صاحب لولاک، سیّاح افلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا،
مدینـــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (مشکاۃ المصابيح،کتاب الزکاۃ، باب فضل الصدقۃ، الحديث: ۱۹۲۸،ج۱،ص۳۶۵)

(مجمع الزوائد، باب أي الصدقۃ أفضل،ج۳، ص۱۱۵)

۲؎ (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابيح، ج۳، ص۱۱۶)
Flag Counter