Brailvi Books

ضیائے صدقات
221 - 408
دينے سے اجتناب مناسب نہيں بلکہ صدقہ دے اورجس قدر ممکن ہو خودکو رياکاری سے بچائے اور يہ اس لئے ہے کہ علانيہ دينے ميں احسان جتانے اور رياکاری کے علاوہ ايک اور تيسری بات بھی ممنوع ہے اور وہ فقير کا پردہ کھولنا ہے کيونکہ بسا اوقات محتاجی کی صورت ميں نظر آنا اس کے لئے تکليف کا موجب ہوتا ہے البتہ جو سوال کرتا ہے تو اس نے تو اپنا پردہ خود ہی کھول ديا، لیکن علانيہ دينے ميں يہ تيسری خرابی ممنوع نہ رہے گی جيسا کہ ايک شخص کے پوشيدہ گناہ کو ظاہر کرنا ممنوع ہے اور اس کے تجسس ميں لگنا اور اس کے تذکرہ کو معمول بنالينا بھی ممنوع ہے۔ مگر جو آدمی (خود) علانيہ فسق کرتا ہے تو اس پر حد قائم کرنا ظاہر کرنا ہی ہے ليکن اس کا سبب وہ خود ہے اسی کی مثل رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا، جو آدمی حيا کا لبادہ پھينک دے اس کی غيبت، غيبت نہيں۔۱؎

    ايک اور مقام پر امام غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں، جہاں تک اذيت پہنچانے کا تعلق ہے تو اس کی ظاہری صورتیں یہ ہيں:سائل کو جھڑکنا،اسے عار دلانا، سخت کلامی، تُرش روئی سے پيش آنا ،صدقے کوجتا کر سائل کی عزت پامال کرنا،اسی طرح دیگر وہ ذرائع اختیار کرنا جس کے سبب لوگوں میں اس سائل کا وقار مجروح ہو۔

    اور باطنی اذيت کا منبع دو باتيں ہيں،ایک یہ کہ مال کا اپنے ہاتھ سے نکل جانا اس پر شدید ناگوار گزرتا ہے اورلامحالہ یہ بات مخلوق کے ليے تنگی کا سبب ہے۔ 

    دوسری یہ کہ وہ اپنے آپ کو سائل سے بہتر خیال کرتاہے اور اس کی محتاجی کی وجہ سے اسے خود سے کم تر سمجھتا ہے ۔يہ دونوں باتيں جہالت پر مبنی ہيں کيونکہ صدقہ
مدینــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (إحياء علوم الدين، کتاب أسرار الزکاۃ، بيان دقائق الآداب الباطنۃ في الزکاۃ، الوظيفۃ الرابعۃ، ج۱، ص۳۰۳۔۳۰۴)
Flag Counter