دينے سے اجتناب مناسب نہيں بلکہ صدقہ دے اورجس قدر ممکن ہو خودکو رياکاری سے بچائے اور يہ اس لئے ہے کہ علانيہ دينے ميں احسان جتانے اور رياکاری کے علاوہ ايک اور تيسری بات بھی ممنوع ہے اور وہ فقير کا پردہ کھولنا ہے کيونکہ بسا اوقات محتاجی کی صورت ميں نظر آنا اس کے لئے تکليف کا موجب ہوتا ہے البتہ جو سوال کرتا ہے تو اس نے تو اپنا پردہ خود ہی کھول ديا، لیکن علانيہ دينے ميں يہ تيسری خرابی ممنوع نہ رہے گی جيسا کہ ايک شخص کے پوشيدہ گناہ کو ظاہر کرنا ممنوع ہے اور اس کے تجسس ميں لگنا اور اس کے تذکرہ کو معمول بنالينا بھی ممنوع ہے۔ مگر جو آدمی (خود) علانيہ فسق کرتا ہے تو اس پر حد قائم کرنا ظاہر کرنا ہی ہے ليکن اس کا سبب وہ خود ہے اسی کی مثل رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا، جو آدمی حيا کا لبادہ پھينک دے اس کی غيبت، غيبت نہيں۔۱؎
ايک اور مقام پر امام غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں، جہاں تک اذيت پہنچانے کا تعلق ہے تو اس کی ظاہری صورتیں یہ ہيں:سائل کو جھڑکنا،اسے عار دلانا، سخت کلامی، تُرش روئی سے پيش آنا ،صدقے کوجتا کر سائل کی عزت پامال کرنا،اسی طرح دیگر وہ ذرائع اختیار کرنا جس کے سبب لوگوں میں اس سائل کا وقار مجروح ہو۔
اور باطنی اذيت کا منبع دو باتيں ہيں،ایک یہ کہ مال کا اپنے ہاتھ سے نکل جانا اس پر شدید ناگوار گزرتا ہے اورلامحالہ یہ بات مخلوق کے ليے تنگی کا سبب ہے۔
دوسری یہ کہ وہ اپنے آپ کو سائل سے بہتر خیال کرتاہے اور اس کی محتاجی کی وجہ سے اسے خود سے کم تر سمجھتا ہے ۔يہ دونوں باتيں جہالت پر مبنی ہيں کيونکہ صدقہ