Brailvi Books

ضیائے صدقات
219 - 408
ہيں''۔۱؎

    حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ سے پوچھا گيا کہ سخاوت کيا ہے؟ آپ نے فرمايا، سخاوت يہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کے راستے ميں اپنا مال خرچ کرے ۔۲؎

    حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں عقل سے زيادہ مددگار کوئی مال نہيں جہالت سے بڑھ کر کوئی گناہ نہيں مشورہ سے بڑھ کر کوئی پشت پناہ نہيں سنو! اللہ تعالیٰ نے فرمايا ميں جواد و کريم ہوں کسی بخیل کے ليے مجھ سے راہ فرار نہیں اور بخل کفر (ناشکری) سے ہے اور کفار (نافرمان) جہنم ميں جائيں گے جب کہ جوُد وکرم ايمان کا حصہ ہے اور اہلِ ايمان جنت ميں جائيں گے۔

    حضرت حذيفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں بہت سے دين ميں نافرمانی کرنے والے جو اپنی معيشت ميں تنگی کا شکار ہوتے ہيں ليکن وہ سخاوت کی وجہ سے جنت ميں جائيں گے۔۳؎

حضرت سفيان بن عيينہ رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ سے پوچھا گيا کہ سخاوت کسے کہتے ہيں؟ آپ نے فرمايا (مسلمان) بھائيوں سے نيکی کا سلوک کرنا اور مال عطا کرنا سخاوت ہے فرمايا ميرے والد ماجد کو وراثت ميں پچاس ہزار درہم ملے تو انہوں نے تھيلياں بھر بھر کر اپنے بھائيوں کو تقسيم کرديں اور فرمايا کہ ميں نماز ميں اللہ تعالیٰ سے اپنے بھائيوں کے لئے جنت کا سوال کيا کرتا تھا تو مال ميں ان سے بخل کیوں کروں؟۴؎
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابيح،ج۳،ص۹۱)

۲؎    (إحياء علوم الدين،کتاب ذم البخل وذم حب المال، بيان فضیلۃ السخاء، الآثار،ج۳،ص۳۳۰)

۳؎    (إحياء علوم الدين،کتاب ذم البخل وذم حب المال، بيان فضیلۃ السخاء، الآثار،ج۳،ص۳۳۰)

۴؎    (إحياء علوم الدين،کتاب ذم البخل وذم حب المال، بيان فضیلۃ السخاء، الآثار،ج۳،ص۳۳۰)
Flag Counter