| ضیائے صدقات |
عَنْ أَبِيْ ھُرَيرۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''السَّخَاءُ شَجَرَۃٌ فِي الْجَنَّۃِ، فَمَنْ کَانَ سَخِيا أَخَذَ بِغُصْنٍ مِّنْھَا فَلَمْ تتْرُکْہُ الْغُصْنُ حَتّٰی تدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ. وَالشُّحُّ شَجَرَۃٌ فِي النَّارِ، فَمَنْ کَانَ شَحِيحاً أَخَذَ بِغُصْنٍ مِّنْھَا، فَلَمْ يتْرُکْہُ الْغُصْنُ حَتّٰی يدْخِلَہُ النَّارَ''.۱؎
حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہيں، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا، سخاوت جنت ميں ايک درخت ہے جو سخی ہوا اس نے اس درخت کی شاخ پکڑلی وہ شاخ اُسے نہ چھوڑے گی حتی کہ اُسے جنت ميں داخل کردے گی اور بخل آگ ميں درخت ہے جو بخيل ہوا اُس نے اسکی شاخ پکڑی وہ اُسے نہ چھوڑے گی حتی کہ آگ ميں داخل کرے گی
''يعنی سخاوت کی جڑ جنت ميں ہے اور اس کی شاخيں دنيا ميں، چونکہ سخاوت کی قسميں بہت ہيں اسلئے فرمايا گيا کہ اس درخت کی دنيا ميں شاخيں بہت پھيلی ہوئی ہيں، جيسے قرآن کريم فرماتا ہے کہ کلمہ طيبہ کی جڑ مسلمان کے قلب ميں ہے اور شاخيں آسمان ميں ہميشہ اپنے پھل دیتا ہے اس آيت ميں بھی تمثيل ہے اس حديث ميں بھی''۔
''شريعت ميں سخاوت کا ادنیٰ درجہ يہ ہے کہ انسان فرض صدقے ادا کرے، اور طریقت ميں ادنیٰ درجہ يہ ہے کہ صرف فرض پر قناعت نہ کرے نوافل صدقے بھی دے، حقيقت و معرفت والوں کے ہاں اس کا ادنیٰ درجہ يہ ہے کہ اپنی ضروريات پر دوسروں کی ضروريات کو ترجيح دے ان ميں سے ہر درجہ کے صدقہ کے نتيجے مختلفمدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (شعب الإيمان،باب في الجود والسخاء،الحديث: ۱۰۸۷۷،ج۷،ص۴۳۵) (مشکاۃ المصابيح،کتاب الزکاۃ، باب الإنفاق وکراھیۃ الإمساک، الفصل الثالث،الحديث: ۱۸۸۶، ج۱،ص۳۵۸)