حضرت واقد بن محمد واقدی فرماتے ہيں مجھ سے ميرے والد نے بيان کيا کہ انہوں نے خليفہ مامون کو ايک رقعہ لکھا جس ميں لکھا کہ مجھ پر بہت زيادہ قرض ہے اور اب مجھ سے صبر نہيں ہوسکتا مامون نے رقعہ کی پشت پر لکھا کہ تم ايسے آدمی ہو جس ميں دو خصلتيں يعنی سخاوت اور حيا جمع ہيں۔ سخاوت نے تمہارے ہاتھ ميں کچھ نہيں
چھوڑا اور حيا کی وجہ سے تم نے اپنی حالت ہم سے بيان نہيں کی لہٰذا ميں تمہارے لئے ايک لاکھ درہم کا حکم دیتا ہوں اگر ميری يہ کارروائی ٹھيک اور مناسب ہے تو خوب ہاتھ پھيلاؤ (سخاوت کرو) اور اگر ٹھيک نہ ہو تو تمہارا اپنا قصور ہے تم ہارون الرشيد کے زمانے ميں قاضی تھے تو تم نے مجھے ايک حديث سنائی تھی کہ حضرت محمد بن اسحٰق نے حضرت زہری سے انہوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روايت کيا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت زبير بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمايا،
اے زبير! جان لو بے شک بندوں کے رزق کی چابياں عرش کے بالمقابل ہيں اللہ تعالیٰ ہر بندے کے خرچ کے مطابق اس کی طرف بھيجتا ہے جو زيادہ خرچ کرتا ہے اسے زيادہ دیتا ہے اور جو کم خرچ کرتا ہے اس کی طرف کم بھيجتا ہے۔
اور آپ جانتے ہيں، واقدی نے فرمايا اللہ کی قسم مامون کا مجھ سے حديث کے بارے ميں ذکر کرنا اس انعام سے جو ايک لاکھ درہم پر مشتمل ہے، زيادہ پسنديدہ ہے۔۱؎
سخاوت جنت کا درخت ہے، چنانچہ: