Brailvi Books

ضیائے صدقات
217 - 408
    حضرت واقد بن محمد واقدی فرماتے ہيں مجھ سے ميرے والد نے بيان کيا کہ انہوں نے خليفہ مامون کو ايک رقعہ لکھا جس ميں لکھا کہ مجھ پر بہت زيادہ قرض ہے اور اب مجھ سے صبر نہيں ہوسکتا مامون نے رقعہ کی پشت پر لکھا کہ تم ايسے آدمی ہو جس ميں دو خصلتيں يعنی سخاوت اور حيا جمع ہيں۔ سخاوت نے تمہارے ہاتھ ميں کچھ نہيں

چھوڑا اور حيا کی وجہ سے تم نے اپنی حالت ہم سے بيان نہيں کی لہٰذا ميں تمہارے لئے ايک لاکھ درہم کا حکم دیتا ہوں اگر ميری يہ کارروائی ٹھيک اور مناسب ہے تو خوب ہاتھ پھيلاؤ (سخاوت کرو) اور اگر ٹھيک نہ ہو تو تمہارا اپنا قصور ہے تم ہارون الرشيد کے زمانے ميں قاضی تھے تو تم نے مجھے ايک حديث سنائی تھی کہ حضرت محمد بن اسحٰق نے حضرت زہری سے انہوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روايت کيا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت زبير بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمايا،

    اے زبير! جان لو بے شک بندوں کے رزق کی چابياں عرش کے بالمقابل ہيں اللہ تعالیٰ ہر بندے کے خرچ کے مطابق اس کی طرف بھيجتا ہے جو زيادہ خرچ کرتا ہے اسے زيادہ دیتا ہے اور جو کم خرچ کرتا ہے اس کی طرف کم بھيجتا ہے۔

    اور آپ جانتے ہيں، واقدی نے فرمايا اللہ کی قسم مامون کا مجھ سے حديث کے بارے ميں ذکر کرنا اس انعام سے جو ايک لاکھ درہم پر مشتمل ہے، زيادہ پسنديدہ ہے۔۱؎

    سخاوت جنت کا درخت ہے، چنانچہ:
مدینـــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (إحياء علوم الدين،کتاب ذم البخل وذم حب المال، بيان فضیلۃ السخاء، حکايات الأسخياء،ج۳،ص۳۳۱۔۳۳۲)
Flag Counter