Brailvi Books

ضیائے صدقات
216 - 408
اسْمِيْ؟ فَقَال: إِنِّيْ سَمِعْتُ صَوْتاً فِي السَّحَابِ الَّذِيْ ھٰذَا مَاؤُہُ، وَيقُوْلُ: اسْقِ حَدِيقَۃَ فُلَانٍ لِاسْمِکَ، فَمَا تَصْنَعُ فِيھَا؟ قَالَ: أَمَّا إِذْ قُلْتَ ھٰذَا؛ فَإِنِّيْ أَنْظُرُ إِلٰی مَا يخْرُجُ مِنْھَا فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثِہِ وَآکُلُ أَنَا وَعَيالِيْ ثُلُثاً، وَأَرُدُّ فِيھَا ثُلُثَہُ''.۱؎
بولا کہ ميں نے اُس بادل ميں جس کا يہ پانی ہے، ايک آواز سُنی تھی کہ کوئی تيرا نام لے کر کہہ رہا تھا کہ فلاں کے باغ کو سيراب کرو، تَو تُو اس ميں کيا نيکی کرتا ہے وہ بولا کہ جب تو پوچھتا ہے تو بتاتا ہوں کہ ميں اس باغ کی پيداوار ميں غور کرتا ہوں تہائی توخيرات کردیتا ہوں اور تہائی ميں اور ميرے بال بچے کھاتے ہيں اور تہائی اس ميں دوبارہ خرچ کردیتا ہوں۔

    ''سبحان اللہ اس نيک بندے کی کیسی عزّت افزائی کی گئی کہ پانی ايک پتھريلے علاقہ پر برسايا گيا، پھر اُسے ايک نالی ميں جمع کيا گيا، اُس نالی کے ذريعہ اس کے باغ ميں پانی پہنچايا گيا خود بادل اس باغ پر نہ برسايا گيا، جيسے کہ وہ گنہگار جو ايک بستی ميں کسی عالم کے پاس توبہ کرنے جارہا تھا رستہ ميں مرگيا رب تعالیٰ نے حکم ديا کہ يہ جس بستی سے قريب ہوا اسی کے احکام اس پر جاری کئے جائيں، ناپا گيا تو بالکل بیچ  ميں تھا۔ تو گناہ کی بستی پیچھے ہٹائی گئی اور توبہ کی بستی آگے بڑھائی گئی، خود اس کی لاش کو حرکت نہ دی گئی اس کے احترام کی وجہ سے، اس نالہ کے کنارے والے کھیتوں کو بھی اس کے طفيل پانی مل گيا ہوگا''۔۲؎
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (مشکاۃ المصابيح،کتاب الزکاۃ،باب الإنفاق وکراھیۃ الإمساک، الفصل الثالث،الحديث: ۱۸۷۷، ج۱،ص۳۵۶)

۲؎    (مرآۃ المناجيح،ج۳،ص۸۰)
Flag Counter