Brailvi Books

ضیائے صدقات
215 - 408
بناديں گے ليکن ميں تو موسلادھا ر بارش کی طرح نيکی کروں گا اگر وہ اچھے لوگوں تک پہنچ گئی تو وہ اس کے مستحق ہيں اور اگر برے لوگوں تک پہنچی تو ميں اس کا اہل ہوں۔۱؎

    حديث شريف ميں ہے:
عَنْ أَبِيْ ھُرَيرۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ''بَينا رَجُلٌ بِفَلَاۃٍ مِنَ الْأَرْضِ فَسَمِعَ صَوْتاً فِيْ سَحَابَۃٍ، اسْقِ حَدِيقَۃَ فُلَانٍ، فَتَنَحّٰی ذٰلِکَ السَّحَابُ فَأَفْرَغَ مَاءَ ہُ فِيْ حَرَّۃٍ، فَإِذَا شَرْجَۃٌ مِنْ تِلْکَ الشِّرَاجِ قَدِ اسْتَوْعَبَتْ ذٰلِکَ الْمَاءَ کُلَّہُ، فَتَتَبَّعَ الْمَاءَ فَإِذَا رَجُلٌ قَاءِمٌ فِيْ حَدِيقَتِہِ، يحوِّلُ الْمَاءَ بِمِسْحَاتِہِ، فَقَالَ لَہُ: يا عَبْدَ اللہِ مَا اسْمُکْ؟ فَقَالَ: فُلَانٌ؛ الْاِسْمُ الَّذِيْ سَمِعَ فِي السَّحَابَۃِ، فَقَالَ لَہُ: يا عَبْدَ اللہِ! لِمَ تَسْأَلُنِيْ عَنِ
حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہيں، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا، ايک شخص کسی زمين کے جنگل ميں تھا اُس نے بادل ميں آواز سنی کہ فلاں کے باغ کو سيراب کر يہ بادل ايک طرف گيا اور پتھريلی زمين پر پانی برسايا تو ناليوں ميں سے ايک نالی نے يہ سارا پانی جمع کرليا تب يہ شخص اس پانی کے پیچھے چل ديا ديکھا کہ ايک شخص اپنے باغ ميں کھڑا ہوا بيلچے سے پانی باغ ميں پھير رہا ہے اُس سے پوچھا کہ اے اللہ کے بندے تيرا نام کيا ہے؟ وہ بولا فلاں يعنی وہی نام جو اس نے بادل ميں سُنا تھا اُس نے پوچھا اے اللہ کے بندے تو ميرا نام کيوں پوچھتا ہے تو يہ
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (إحياء علوم الدين،کتاب ذم البخل وذم حب المال، بيان فضیلۃ السخاء، الآثار،ج۳، ص۳۳۰۔۳۳۱)
Flag Counter