Brailvi Books

ضیائے صدقات
214 - 408
اللہ تعالیٰ عنہ نے سب کچھ خيرات کرديا اس کی وجہ يہ تھی کہ ان کے گھر والے بھی صابرين کے سردار تھے لہٰذا يہ حديث کے خلاف نہيں کہ تم پر تمہاری بيوی کا حق بھی ہے اور تمہارے بچوں کا بھی، کيونکہ وہاں ہم جیسوں کے لئے قانون کا ذکر ہے اور يہاں ان حضور داتا کے خصوصی کرم کا''۔۱؎

    حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ فرماتے ہيں موجود چیز کو پوری محنت اور محبت کے ساتھ خرچ کرنا جُود و سخاوت کی انتہا ہے۔ کسی دانا سے پوچھا گيا کہ لوگوں ميں سے کون شخص آپ کے نزديک پسنديدہ ہے؟ انہوں نے فرمايا جس نے مجھے زيادہ ديا ہو۔ پوچھا گيا اگر ایسا نہ ہو تو؟ فرمايا جس کو ميں نے زيادہ ديا ہو۔۲؎

    خليفہ مہدی نے شبيب بن شبہ سے پوچھا کہ آپ نے ميرے گھر ميں لوگوں کو کیسا پايا؟ انہوں نے جواب ديا امير المومنين لوگ وہاں اميد لے کر جاتے ہيں اور راضی ہوکر واپس آتے ہيں ايک شخص نے حضرت عبد اللہ بن جعفر رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ کے سامنے يہ دو شعر پڑھے۔
إِنَّ الصَّنِيعۃَ لَا يکوْنُ صَنِيعۃً    حَتّٰی يصَابَ بِھَا طَرِيقُ الْمَصْنَعٖ

فَإِذَا اصْطَنَعْتَ صَنِيعۃً فَاعْمِدْ بِھَا     لِلّٰہِ أَوْ لِذَوِي الْقَرَابَۃِ أَوْدَعٖ
    احسان تو اس وقت احسان ہوتا ہے جب وہ موقع محل کے مطابق ہو تو جب تم کوئی احسان کرنے لگو تو اللہ تعالیٰ کی راہ ميں دو يا قرابت داروں کو دو يا چھوڑدو۔

    حضرت عبد اللہ بن جعفر رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ نے فرمايا يہ دو شعر تو لوگوں کو بخيل
مدینـــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (مرآۃ المناجيح،ج۳،ص۶۹)

۲؎    (إحياء علوم الدين،کتاب ذم البخل وذم حب المال، بيان فضیلۃ السخاء، الآثار،ج۳،ص۳۳۰)
Flag Counter