Brailvi Books

ضیائے صدقات
213 - 408
رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ پر ستر ہزار درہم قرض ہيں اس نے وہ اپنے نام پر کرکے ادا کردئيے اور فرمايا کہ ميرا ان کو غسل دينا يہی تھا اور ان کی مراد بھی يہی تھی (کہ ميں قرض کی ميل کچيل سے ان کو پاک کردوں)۔۱؎

    اور حديث شريف ميں ہے:
عَنْ أَبِيْ ھُرَيرۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''لَوْ کَانَ لِيْ مِثْلُ أُحُدٍ ذَھَباً، لَسَرَّنِيْ أَنْ لَّا يمرَّ عَلَيَّ ثَلَاثُ لَيالٍ وَعِنْدِيْمِنْہُ شَيْئٌ، إِلَّا شَيْءٌ أُرْصِدُہُ لِدَين''.۲؎
حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہيں، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا،اگر ميرے پاس اُحُد پہاڑ برابر بھی سونا ہو تویہ بات مجھے پسند نہیں کہ اس پر تین راتیں گزر جائیں اور کچھ بھی اس میں سے میرے پاس رہے سوائے اس کے کہ جو میں قرض ادا کرنے کے ليے رکھ چھوڑوں۔

    ''حديث کا مطلب بالکل ظاہر ہے، يہ گفتگو ظاہر کے لحاظ سے ہے، ورنہ نبی کريم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اگر چاہتے تو آپ کے ساتھ سونے کے پہاڑ چلا کرتے، جیسا کہ دوسری حديث ميں صراحۃً مذکور ہے اس ميں اشارۃً فرمايا گيا کہ مقروض نفلی صدقہ نہ دے بلکہ پہلے قرض ادا کرے، نیز اتنی عظيم الشان سخاوت وہ کرسکتا ہے جس کے بال بچّے بھی صابر شاکر ہوں ورنہ انہيں بھُوکا مارکر نفلی خيرات نہ کرو حضرت صدیق اکبر رضی
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

!؎    (إحياء علوم الدين،کتاب ذم البخل وذم حب المال، بيان فضیلۃ السخاء، الآثار،ج۳،ص۳۳۵)

۲؎    (صحيح البخاری،کتاب في الاستقراض...الخ،باب أداء الديون،الحديث:۲۳۸۹،ج۲،ص۹۵)

    (صحيح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب تغليظ عقوبۃ من لا يؤدي الزکاۃ، الحديث:۳۱۔(۹۹۱)، ص۳۵۷)

(سنن ابن ماجۃ، کتاب الزھد، باب في المکثرين، الحديث: ۴۱۳۲، ج۴، ص۴۸۰)
Flag Counter