Brailvi Books

ضیائے صدقات
212 - 408
يعنی، جب تک تو مال کو روک کر رکھے تو تُو مال کا ہے اور جب تو اسے خرچ کردے تو مال تيرا ہے۔۱؎

    اللہ والے اس کی راہ ميں خرچ کرنے کو ہی پسند کرتے ہيں اسی لئے خرچ کرنے کے بعد بھی ديا ہوا کم لگتا ہے، چنانچہ:

    عبد الملک بن مروان نے حضرت اسماء بن خارجہ رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ سے کہا کہ مجھے آپ کی چند اچھی عادات کی خبر پہنچی ہے مجھ سے بيان کيجئے انہوں نے فرمايا کہ ميرے بجائے کسی دوسرے آدمی سے سنتے تو زيادہ بہتر ہوتا عبد الملک نے کہا ميں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ ہی مجھے سنائيں۔

    انہوں نے فرمايا اے امير المومنين! ميں نے اپنے ہمنشيں کے سامنے کبھی پاؤں نہيں پھيلائے اور جب بھی لوگوں کے لئے کھانا پکايا اور ان کو دعوت دی تو ميں

نے احسان کے بجائے اپنے اوپر ان کا احسان سمجھا اور جب کبھی کسی شخص نے مجھ سے سوال کيا تو ميں نے جو کچھ اسے ديا اسے زيادہ خيال نہيں کيا۔۲؎

    ايک روايت ميں ہے کہ حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ جب مصر ميں مرض الموت ميں مبتلا ہوئے تو فرمايا فلاں آدمی سے کہنا کہ وہ مجھے غسل دے جب آپ کا انتقال ہوا اور اس شخص کو آپ کی وفات کا علم ہوا تو وہ حاضر ہوا اور کہنے لگا ان کے اخراجات کا رجسٹر لاؤ جب رجسٹر لايا گيا تو اس نے اس ميں ديکھا کہ حضر ت امام شافعی
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (إحياء علوم الدين،کتاب ذم البخل وذم حب المال، بيان فضيلۃ السخاء، الآثار،ج۳،ص۳۳۰)

۲؎    (إحياء علوم الدين،کتاب ذم البخل وذم حب المال، بيان فضیلۃ السخاء، الآثار،ج۳، ص۳۳۴۔۳۳۵)
Flag Counter