| ضیائے صدقات |
عَنْ أُمِّ بُجَيد رَضِيَ اللہُ عَنْھَا أَنَّھَا قَالَتْ: يا رَسُوْلَ اللہِ إِنَّ الْمِسْکِين لَیَقُوْمُ عَلٰی بَابِيْ فَمَا أَجِدُ لَہُ شَيئًا أُعْطِيہ إِياہُ، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''إِنْ لَّمْ تَجِدِيْ شَيئًا تُعْطِينہُ إِياہُ إِلَّا ظِلْفاً مُحْرَقاً فَادْفَعِيہ إِلَيہ فِيْ يدہِ''.۱؎
حضرت ام بجيدرضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہيں، ميں نے عرض کی يا رسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ميرے دروازے پرکوئی مسکین آتا ہے اور میں اسے دینے کے ليے کوئی چیز نہيں پاتی تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا، اگر تمہارے پاس اُسے دينے کے لئے جلے ہوئے کُھر کے سوا کچھ نہ ہو تو وہی اسے ديدو۔
يعنی کوشش ہونی چاہے کہ خالی ہاتھ نہ لوٹے۔
ايک روايت ميں ہے کہ حضرت احنف بن قےس رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ نے ايک شخص کو ديکھا جس کے ہاتھ ميں درہم تھا انہوں نے پوچھا يہ درہم کس کا ہے؟ اس نے کہا ميرا ہے انہوں نے فرمايا اس وقت ہوگا جب تيرے ہاتھ سے نکل جائے گا اسی مفہوم ميں کہا گيا ہے۔أَنْتَ لِلْمَالِ إِذَا أَمْسَکْتَہ، فَإِذَا أَنْفَقْتَہ، فَالْمَالُ لَکَ
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (المؤطا للإمام مالک، کتاب صفۃ النبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، باب ما جاء في المسکين، الحديث:[۱۷۱۴]۔۸، ج۱، ص۵۱۵) (سنن أبي داود،کتاب الزکاۃ، باب حق السائل،الحديث: ۱۶۶۷،ج۲،ص۲۱۰) (سنن الترمذي،کتاب الزکاۃ،باب ما جاء في حق السائل، الحديث: ۶۶۵،ج۱، ص۴۷۸۔۴۷۹) (سنن النسائي، کتاب الزکاۃ، باب رد السائل،الحديث:۲۵۶۴،الجزء۵،ج۳،ص۸۶)