سبحان اللہ! معنی يہ ہيں کہ امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خشيت الٰہی کو اپنے مال پر مقدَّم رکھا اور اسی ميں فلاح ہے کہ مال کی محبت اللہ کی محبت پر غالب نہيں آنی چاہے۔
مال سے اگرچہ گردنيں خريدی جاسکتی ہيں مگر دل نہيں! چنانچہ:
حضرت ابن سماک رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ فرماتے ہيں مجھے اس شخص پر تعجب ہوتا ہے جو مال خرچ کرکے غلام خريدتا ہے ليکن نيکی کے ذريعہ لوگوں (کے دلوں) کو نہيں خريدتا۔۱؎
کسی ديہاتی سے پوچھا گيا کہ تمہارا سردار کون ہے؟ اس نے کہا وہ شخص جو ہماری گاليوں کو برداشت کرے ہمارے مانگنے والوں کو عطا کرے اور ہمارے جاہلوں سے درگزر کرے۔۲؎
حضرت علی بن حسين (امام زين العابدين) رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہيں جو شخص مانگنے والوں کو ديتا ہے وہ سخی نہيں ہے بلکہ سخی وہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی اِطاعت کرنے والوں کے سلسلے ميں اللہ تعالیٰ کے حقوق کو خود بخود پورا کرتا ہے۔ اور شکريہ کی لالچ نہيں رکھتا کيونکہ وہ مکمل ثواب کے حصول کا يقين رکھتا ہے۔۳؎
اسی طرح ايک اور حديث ميں راہِ خدا عزوجل ميں خرچ کرنے کی تلقين کی گئی ہے: