حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے فرمايا، اگر تيرے پاس دنيا آجائے تو اسے خرچ کر اس لئے کہ خرچ کيا ہوا فنا نہيں ہوگا اور اگر دنيا تجھ سے دور ہوجائے پھر بھی اسے خرچ کرنے سے دریغ نہ کرنا کيوں کہ وہ باقی نہيں رہے گی ۔۱؎
حضرت معاويہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت امام حسنرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروّت، بہادری اور کرم کے بارے ميں سوال کيا تو انہوں نے جواباً فرمايا مروّت يہ ہے کہ انسان اپنے دين کی حفاظت کرے نفس کو بچا بچا کر رکھے مہمان کی مہمان نوازی اچھی طرح کرے اور اگر جھگڑے اور مکروہ کام ميں داخل ہونا پڑے تو اچھے طریقے اختيار کرے۔ دليری اور بڑائی يہ ہے کہ ہمسايہ کی مصيبت دور کرے اور صبر کی جگہوں ميں صبر کرے، اور کرم يہ ہے کہ کسی کے مانگنے سے پہلے خود اپنی طرف سے نيکی کا سلوک کرے، ضرورت مند کو کھانا کھلائے اور سائل کو کچھ دينے کے ساتھ ساتھ اس سے مہربانی اور رحمت کا سلوک کرے۔۲؎
اور رحمت کا سلوک کرنے کے متعلق امام غزالی بہت اچھی حکايت بيان کرتے ہيں:
ايک شخص نے حضرت امام حسنرضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت ميں ايک درخواست پيش کی آپ نے فرمايا تمہاری حاجت پوری کردی گئی عرض کیا گيا اے نواسہ رسول! آپ اس کا رقعہ پڑھتے اور پھر اس کے مطابق جواب ديتے آپ نے فرمايا وہ ميرے سامنے ذلت کے ساتھ کھڑا رہتا تو پھر اس کے بارے ميں اللہ تعالیٰ مجھ سے پوچھتا۔۳؎