Brailvi Books

ضیائے صدقات
208 - 408
    حديث شريف ميں ہے:
عَنْ أَبِيْ ھُرَيرۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''سَبَقَ دِرْھَمٌ مِائَۃَ أَلْفِ دِرْھَمٍ، قَالُوْا: وَکَيف؟ قَالَ: ''کَانَ لِرَجُلٍ دِرْھَمَانِ تَصَدَّقَ بِأَحَدِھِمَا، وَانْطَلَقَ رَجُلٌ إِلٰی عُرْضِ مَالِہِ فَأَخَذَ مِنْہُ مِائَۃَ أَلْفِ دِرْھَمٍ فَتَصَدَّقَ بِھَا''.۱؎
حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا، ايک درہم ايک لاکھ درہم سے سبقت لے گیا،صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کی،وہ کيسے؟ فرمايا (وہ يوں) کہ ايک شخص کے پاس فقط دو درہم تھے اس نے ان ميں سے ايک درہم صدقہ کرديا اورایک (مالدار) شخص اپنے مال کی طرف گیا اور اس میں سے اس نے ايک لاکھ درہم لے کر صدقہ کر دیا۔



    کيونکہمالدار شخص نے اگرچہ پہلے کی بانسبت ايک لاکھ گُنا زيادہ صدقہ کيا مگر اس کے ايک لاکھ پر پہلے شخص کا ايک درہم غالب آگيا، وجہ يہ ہے کہ اس نے اپنا نصف مال راہِ خدا ميں صدقہ کيا جبکہ مالدار نے نصف سے کم کيا۔

    چنانچہ علامہ سندھی فرماتے ہيں، حديث کے ظاہر معنی يہ ہيں کہ اجر، دينے والے کے حال کے مطابق ہوتا ہے نہ کہ مال کے۔ کہ دو درہم والے نے اپنا نصف

مال ديا جبکہ غنی نے (اگرچہ ايک لاکھ درہم دئيے مگر) نصف سے کم ديا تھا۔۲؎
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (سنن النسائي، کتاب الزکاۃ،باب جھد المقل،الحديث: ۲۵۲۶،الجزء۵،ج۳،ص۶۲)

۲؎    (حاشیۃ العلامۃ السندي علی سنن النسائي،کتاب الزکاۃ،باب جھد المقل،الحديث: ۲۵۲۶، الجزء۵،ج۳،ص۶۲)
Flag Counter