غنٰی (یعنی غنی ہوتے ہوئے صدقہ کرنا) بہتر ہے خلاصہ يہ ہے کہ اگر ہاتھ کا فقير دل کا غنی تھوڑی سی خيرات کرلے تو ہاتھ کے غنی کی بہت سی خيرات سے افضل ہے لہٰذا وہاں غنی والی حديث ميں دل کی غنا مراد ہوسکتی ہے تب بھی احاديث ميں تعارض نہيں''۔
''کوئی شخص اپنے بال بچوں کو بھوکا رکھ کر خيرات نہ کرے، پہلے اُن کا پیٹ بھرو، تن ڈھکو، پھر خيرات کرو يہ مطلب نہيں کہ اپنی زکوٰۃ پہلے اپنے بال بچّوں کو دو، پھر دوسروں کو، کيونکہ اپنی زکوٰۃ اپنی اولاد اور بيوی پر نہيں لگتی''۔۱؎
مروی ہے کہ حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذمہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پچاس ہزار درہم تھے ايک دن حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد کی طرف تشريف لے گئے تو حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمايا آپ کا مال تيار ہے قبضہ کيجئے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمايا ميں نے آپ کو دے دئيے تاکہ آپ کو مروّت (سخاوت) پر مدد حاصل ہو۔
حضرت سُعْدٰی بنت عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہيں ميں حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حاضر ہوئی تو ان کی طبيعت کو بوجھل ديکھ کر پوچھا آپ کو کيا ہوا؟ انہوں نے فرمايا ميرے پاس مال جمع ہوگيا ہے جس کی وجہ سے ميں غمگين ہوں ميں نے پوچھا آپ کو کيا غم ہے اپنی قوم کو بلا کر تقسيم کرديں چنانچہ انہوں نے اپنے غلام کو بھيج کر اپنی قوم کو بلايا اور وہ مال ان ميں تقسيم کرديا ميں نے خادم سے پوچھا کہ کتنا مال تھا؟ اس نے کہا چار لاکھ۔۲؎