حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے عرض کيا، يا رسول اللہ کونسا صدقہ زيادہ بہتر ہے؟ فرمايا غريب آدمی کی مشقت اور (دينے ميں) ان سے شروع کرو جن کی پرورش کرتے ہو۔
جہدِ مقلّ کی شرح ميں علامہ بدر الدين عينی حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں جہد المقلّ جيم کے ضمّہ (پيش) کے ساتھ قليل مال کی مقدار مراد ہے يہ بھی معنی ہيں کہ وسعت اور طاقت مراد ہے اور جيم کے فتحہ (زبر) کے ساتھ مشقت مراد ہے۔ معنی يہ ہوئے کہ افضل صدقہ غريب کی مشقت کی کمائی کا ہے يا غريب آدمی کی مشقت کی کمائی افضل صدقہ ہے۔۲؎
''يعنی غريب آدمی محنت مزدوری کرے پھر اس ميں سے خيرات بھی کرے، اس کا بڑا درجہ ہے خيال رہے کہ بعض لحاظ سے غنی کی خيرات افضل ہے جبکہ وہ توکّل ميں کامل نہ ہو اور بعض لحاظ سے فقير کی خيرات افضل ہے جب کہ وہ اور اس کے گھر والے صبر و توکل ميں کامل ہوں۔ لہٰذا يہ حديث (اُس حدیث) کے خلاف نہيں کہ صدقہ