Brailvi Books

ضیائے صدقات
206 - 408
    ايک اور حديث شريف ميں ہے:
عَنْ أَبِيْ ھُرَيرۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ: يا رَسُوْلَ اللہِ أَيُّ الصَّدَقَۃِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ''جَھْدُ الْمُقِلِّ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُوْلُ''.۱؎
حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے عرض کيا، يا رسول اللہ کونسا صدقہ زيادہ بہتر ہے؟ فرمايا غريب آدمی کی مشقت اور (دينے ميں) ان سے شروع کرو جن کی پرورش کرتے ہو۔

    جہدِ مقلّ کی شرح ميں علامہ بدر الدين عينی حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں جہد المقلّ جيم کے ضمّہ (پيش) کے ساتھ قليل مال کی مقدار مراد ہے يہ بھی معنی ہيں کہ وسعت اور طاقت مراد ہے اور جيم کے فتحہ (زبر) کے ساتھ مشقت مراد ہے۔ معنی يہ ہوئے کہ افضل صدقہ غريب کی مشقت کی کمائی کا ہے يا غريب آدمی کی مشقت کی کمائی افضل صدقہ ہے۔۲؎

    ''يعنی غريب آدمی محنت مزدوری کرے پھر اس ميں سے خيرات بھی کرے، اس کا بڑا درجہ ہے خيال رہے کہ بعض لحاظ سے غنی کی خيرات افضل ہے جبکہ وہ توکّل ميں کامل نہ ہو اور بعض لحاظ سے فقير کی خيرات افضل ہے جب کہ وہ اور اس کے گھر والے صبر و توکل ميں کامل ہوں۔ لہٰذا يہ حديث (اُس حدیث) کے خلاف نہيں کہ صدقہ
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (سنن أبي داود،کتاب الزکاۃ، باب في الرخصۃ في ذلک،الحديث: ۱۶۷۷،ج۲،ص۲۱۳)

(مشکاۃ المصابيح، کتاب الزکاۃ، باب أفضل الصدقۃ، الفصل الثاني، الحديث:۱۹۳۸، ج۱، ص۳۶۸)

۲؎    (شرح سنن أبي داود للعيني،کتاب الزکاۃ، باب في الرخصۃ في ذلک،ج۶، ص۴۳۱، مکتبۃ الرشد، المملکۃ العربیۃ )
Flag Counter