Brailvi Books

ضیائے صدقات
205 - 408
عَنْ أَبِيْ ھُرَيرۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''خَير الصَّدَقَۃِ مَا کَانَ عَنْ ظَھْرِ غِنًی، وَالْيد الْعُلْيا خَير مِّنَ الْيد السُّفْلٰی وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُوْلُ''، قَالَ: وَمَنْ أَعُوْلُ يارَسُوْلَ اللہِ؟ قَالَ: ''امْرَأَتُکَ تَقُوْلُ: أَطْعِمْنِيْ إِلَّا فَارَقْنِيْ، خَادِمُکَ يقُوْلُ: أَطْعِمْنِيْ وَاسْتَعْمِلْنِيْ، وَلَدُکَ يقُوْلُ: إِلٰی مَنْ تَتْرُکُنِيْ''.۱؎
حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے روايت فرماتے ہيں، کہ آپ نے فرمايا، بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد محتاجی نہ پیدا ہواور اوپر والا ہاتھ نيچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور خرچ کرنے ميں ان سے ابتدا کر جو تيرے زیرِ کفالت ہيں، راوی نے عرض کی، میری کفالت میں کون ہیں يا رسول اللہ؟ آپ نے فرمايا: تمہاری بيوی جو کہے کہ مجھے کھانا کھِلاؤ ورنہ طلاق دو، تمہارا خادم جو کہے کہ مجھے کھانا کھِلاؤ اور مجھ سے کام لو، اور تمہارا بہٹا جو کہے مجھے کس کے رحم و کرم پر چھوڑ تے ہو؟

    ايک شخص اپنے دوست کے دروازے پر گيا اور دروازہ کھٹکھٹايا اس نے پوچھا

کيسے آنا ہوا؟ اس نے کہا مجھ پر چار سو درہم قرض ہيں اس نے چار سو درہم تول کر اس کے حوالے کردئيے اور روتا ہوا واپس آيا بيوی نے کہا اگر تجھے ان درہموں کا دينا شاقّ تھا تو نہ ديتے اس نے کہا ميں تو اس لئے رو رہا ہوں کہ مجھے اس کا حال اس کے بتائے بغير معلوم نہ ہوسکا حتی کہ وہ ميرا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہوا۔۲؎
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎     (سنن الدار قطني،کتاب النکاح، باب المھر،الحديث: ۳۷۳۸،ج۲،ص۲۰۵)

۲؎    (إحياء علوم الدين،کتاب ذم البخل وذم حب المال، بيان فضیلۃ السخاء، حکايات الأسخياء،ج۳،ص۳۳۷)
Flag Counter