Brailvi Books

ضیائے صدقات
204 - 408
    حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ فرماتے ہيں ميں ہميشہ حضرت حماد بن ابی سليمان سے محبت کرتا ہوں کہ ان کی طرف سے مجھے ايک بات پہنچی ہے وہی اس محبت کا باعث ہے وہ يہ کہ وہ ايک دن اپنے دراز گوش پر سوار تھے انہوں نے اسے حرکت دی تو اس کا تسمہ ٹوٹ گيا وہ ايک درزی کے پاس سے گزرے تو ارادہ کيا کہ اتر کر اس تسمے کو ٹھيک کروائيں درزی نے قسم دے کر کہا کہ آپ نہ اتريں چنانچہ اس نے خود ہی کھڑے ہوکر تسمہ درست کرديا انہوں نے ايک تھيلی نکالی جس ميں دس دينار تھے اور وہ درزی کے حوالے کردی اور معذرت کی کہ يہ رقم کم ہے حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ نے يہ شعر پڑھے:
يالَھْفَ قَلْبِیْ عَلٰی مَالٍ أَجُوْدُ بِہٖ

عَلٰی الْمُقِلِّين مِنْ أَھْلِ الْمُرُوْءَ ا تِ

إِنَّ اعْتِذَارِيْ إِلٰی مَنْ جَاءَ یسْأَلُنِيْ

مَا لَیسَ عِنْدِيْ لَمِنْ اِحْدَی الْمُصِبْياتِ
    میرا دل اس مال پر افسردہ ہے جسے میں اہل مروت پر خرچ کرتاہوں اور جو میرے پاس آکر مجھ سے وہ چیز مانگتا ہے جو میرے پاس نہیں تو اس سے میرا معذرت کرنا یہ بھی میرے ليے ایک مصیبت ہے ۔۱؎

    ايک اور حديث شريف:
مدینـــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (إحياء علوم الدين،کتاب ذم البخل وذم حب المال،بيان فضیلۃ السخاء،حکايات الأسخياء،ج۳،ص۳۳۶)
Flag Counter