ترجمہ: اے محبوب ان کے مال ميں سے زکوٰۃ تحصيل کرو جس سے تم اُنہيں ستھرا اور پاکیزہ کردو (کنزالايمان[التوبۃ:۹/۱۰۳]) يعنی آپ ان کے مالوں کے صدقے وصول فرماليں اور ان کے ذريعہ انہيں پاک و صاف فرماديں آج مسلمان ختم وفاتحہ ميں عرض کرتے ہيں نذر اللہ، نياز رسول اللہ اس کا ماخذ يہ حديث بھی ہے''۔۱؎
عربی ميں نہايت خوشی کے وقت کہا جاتا ہے بَخْ بَخْ يعنی خوب خوب، رَابِحٌ، رِبْحٌ سے بنا بمعنی نفع، رب تعالیٰ فرماتا ہےـ: (فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُھُمْ) ([البقرۃ:۲/۱۶] ترجمہ: تو ان کا سودا کچھ نفع نہ لايا(کنزالايمان))يعنی (حديث شريف ميں جو تذکرہ ہواکہ) يہ مال بہت نفع والا ہے جيسے لابن دودھ والا اور تامر چھواروں والا يعنی اے ابو طلحہ تمہيں اس باغ کے وقف سے بہت نفع ہوگا معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اعمال کی قبوليت کی بھی خبر ہے اور يہ بھی کہ کس کا کونسا عمل کس درجہ کا قبول ہے يہ باغ کيوں قبول نہ ہوتا باغ بھی اچھا تھا وقف کرنے والے بھی اچھے يعنی صحابی اور جن کی طفيل وقف کيا گيا وہ اچھوں کے شہنشاہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس باغ کو اہلِ قرابت کے لئے وقف کرنے کا فرمايا، يعنی اپنے عزیز و اقارب فقراء کو اس کا مَصرف بنادو کہ ہميشہ وہ اس کی آمدنی کھايا کريں تاکہ تمہيں صدقہ کے ساتھ اہل قرابت کے حقوق ادا کرنے کا بھی ثواب ملتا رہے خيال رہے کہ بعض اوقاف وہ ہوتے ہيں جن سے امير و غريب حتی کہ وقف کرنيوالا بھی نفع حاصل کرسکتا ہے جيسے کنواں، مسجد، قبرستان، مسافرخانہ''۔۲؎