Brailvi Books

ضیائے صدقات
202 - 408
پيا ہے، دوسرے يہ کہ بير حاء بروزن فعيل ہے ايک ہی لفظ ہے براح سے مشتق بمعنی کھلی زمين، پہلی صورت ميں اس کے معنی ہوں گے حاء کا کنواں، دوسری صورت ميں معنی ہونگے کھُلا باغ۔

    حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو بھی يہاں کا پانی بہت محبوب تھا، اسی لئے حجاج باخبر ضرور اس کا پانی برکت کے لئے پيتے ہيں۔

    حضرت ابو طلحہ کے اس عرض و معروض کا مقصد يہ تھا کہ حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آپکے اس عمل خير پر گواہ ہوجائيں اور مسلمانوں ميں اس وقف کا اعلان ہوجائے۔ خيال رہے کہ دوسرے نفلی صدقات اکثر خفيہ دينا بہتر ہيں مگر وقف کا ہر طرح اعلان کردينا سخت ضروری ہے تاکہ آئندہ اس موقوف چیز پر کوئی قبضہ نہ کرسکے حتّٰی کہ مسجد کی عمارت ميں مينار گُنبد وغيرہ ايسے نشانات قائم کردئيے جائيں جس سے وہ دُور سے ہی مسجد معلوم ہو اس ميں ريا نہيں بلکہ وقف کا باقی رکھنا ہے نیز آپ کا اپنا دلی اخلاص ظاہر کرنا رياء کے لئے نہ تھا بلکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے دعا حاصل کرنے کے لئے تھا لہٰذا حديث پاک پر کوئی اعتراض نہيں۔

    اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ ميں باغ پيش کرنے کا مقصد يہ تھا کہ حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جہاں چاہيں اس باغ کی آمدنی لگا ديں کہ وہاں خرچ ہوتی رہے چونکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا چاہنا اپنے نفس کی طرف سے نہيں ہوتا بلکہ رب تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے اسی لئے اس طرح عرض کيا
حَيث أَرَاکَ اللہُ
صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اپنے صدقے حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دست مبارک سے خرچ کراتے تھے تاکہ اس ہاتھ کی برکت سے قبول ہوجائيں، رب تعالیٰ فرماتا ہے:
(خُذْ
Flag Counter