Brailvi Books

ضیائے صدقات
201 - 408
رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''بَخٍ، ذٰلِکَ مَالٌ رَابِحٌ، ذٰلِکَ مَالٌ رَابِحٌ. وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ، وَإِنِّيْ أَرٰی اَنْ تَجْعَلَھَا فِي الْأَقْرَبِين''. فَقَالَ أَبُوْ طَلْحَۃَ: أَفْعَلُ يا رَسُوْلَ اللہِ! فَقَسَّمَھَا أَبُوْ طَلْحَۃَ فِيْ أَقَارِبِہِ وَبَنِيْ عَمِّہِ.۱؎
بيرحاء ہے اب وہ اللہ کے لئے صدقہ ہے ميں اللہ کے پاس اس کا ثواب اور اس کا ذخيرہ چاہتا ہوں۔ يا رسول اللہ آپ اسے وہاں خرچ کريں جہاں رب تعالیٰ آپ کی رائے قائم فرمائے راوی فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا خوب خوب يہ تو بڑا نفع کا مال ہے جو تم نے کہا ميں نے سن ليا ميری رائے ہے کہ تم اسے اپنے اہل قرابت ميں وقف کردو، ابوطلحہ بولے يا رسول اللہ ميں يہی کرتا ہوں پھر اسے ابو طلحہ نے اپنے عزیزوں اور چچازادوں ميں تقسيم کرديا۔ 

    بير حاء حضرت طلحہ کے ايک باغ کا نام ہے، اس نام کے محدّثين نے آٹھ معنی کئے ہيں جن ميں سے ايک: حاء ايک آدمی کا نام تھا جس نے کنواں کھدوايا تھا چونکہ يہ کنواں اس باغ ميں تھا، لہٰذا باغ بھی يہ ہی ہوا، وہ کنواں اب تک موجود ہے (حکيم الامّت مفتی احمد يار خاں صاحب نعيمی رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ فرماتے ہيں) فقير نے اُس کا پانی
مدینــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (سنن الدارمي،کتاب الزکاۃ،باب أي الصدقۃ أفضل؟،الحديث:۱۶۵۵،ص۴۸۴)

(صحيح البخاري،کتاب الزکاۃ،باب الزکاۃ علی الأقارب،الحديث:۱۴۶۱،ج۱،ص۳۵۹)

(صحيح مسلم،کتاب الزکاۃ،باب فضل النفقۃ والصدقۃ...إلخ، 

الحديث:۴۲۔(۹۹۸)،ص۳۶۰)

(مشکاۃ المصابيح، کتاب الزکاۃ، باب أفضل الصدقۃ، الفصل الثالث، الحديث:۱۹۴۵، ج۱، ص۳۶۸)
Flag Counter