Brailvi Books

ضیائے صدقات
200 - 408
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: کَانَ أَبُوْ طَلْحَۃَ أَکْثَرَ الْأَنْصَارِ بِالْمَدِينۃِ مَالاً مِّنْ نَخْلٍ، وَکَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِہِ إِلَيہ بَيرحَاءُ، وَکَانَتْ مُسْتَقْبِلَۃَ الْمَسْجِدِ، وَکَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يدخُلُھَا وَيشرَبُ مِنْ مَّاء فِيھَا طَيبٍ. قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا نَزَلَتْ ھٰذِہِ الْآيۃُ:
(لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ)
 [آل عمران:۳/۹۲].
قَامَ أَبُوْ طَلْحَۃَ إِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يا رَسُوْلَ اللہِ إِنَّ اللہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی یَقُوْلُ:
 (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ)،
وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِیْ إِلَیَّ بَيرحَاءُ، وَإِنَّھَا صَدَقَۃٌ لِلّٰہِ تَعَالٰی أَرْجُوْ بِرَّھَا وَذُخْرَھَا عِنْدَ اللہِ فَضَعْھَا يا رَسُوْلَ اللہِ حَيث أَرَاکَ اللہُ. قَالَ: فَقَالَ
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں، حضرت ابو طلحہ مدينہ ميں تمام انصار سے زيادہ باغوں کے مالک تھے اور انہيں زيادہ پيارا باغ بيرحاء تھا جو مسجد شريف کے سامنے تھا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وہاں تشريف ليجاتے تھے اور وہاں کا بہترين پانی پيتے تھے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں کہ جب يہ آيت
 (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ)
 [اٰل عمران:۳/۹۲]
نازل ہوئی تو حضرت ابو طلحہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ ميں حاضر ہوئے اور عرض کی، يا رسول اللہ! رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ ''تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچوگے جب تک راہ خدا ميں اپنی پياری چیز نہ خرچ کرو'' (کنزالايمان) اور مجھے اپنے مالوں سے پسنديدہ مال باغ
Flag Counter