| ضیائے صدقات |
بزرگانِ دین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اپنے مال ومتاع رِضائے رب العُلیٰ عزوجل کے حصول کی خواہش میں خرچ کرتے اور اللہ عزوجل سے بڑے اجر کی امید رکھتے، امام غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ايک شخص نے حضرت سعيد بن عاص سے کچھ مانگا تو انہوں نے ايک لاکھ درہم دينے کا حکم ديا وہ شخص رو پڑا سعيد بن عاص نے رونے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا ميں اس بات پر رو رہا ہوں کہ زمين تم جيسے لوگوں کو بھی کھالے گی انہوں نے اسے مزيد ايک لاکھ درہم دينے کا حکم ديا۔
حضرت ربيع بن سليمان فرماتے ہيں کہ ايک شخص نے امام شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ (کی سواری) کی رکاب پکڑی تو آپ نے فرمايا اے ربيع اسے چار درہم دے دو اور ميری طرف سے معذرت بھی کرو۔
حضرت اعمش رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ فرماتے ہيں ميری ايک بکری بيمار ہوگئی تو حضرت خیثمہ بن عبد الرحمن صبح و شام اس کی عيادت کے لئے آتے اور مجھ سے پوچھتے کيا وہ گھاس اچھی طرح کھاتی ہے اور بچے اس کے دودھ کے بغير کس طرح گزارہ کرتے ہوں گے؟ ميں جس گدے پر بہٹھا کرتا تھااس کے نيچے وہ کچھ رقم رکھ ديا کرتے اور جاتے وقت فرماتے گدے کے نيچے جو کچھ ہے لے لو حتی کہ بکری کی بيماری کے دوران مجھے تين سو سے زیادہ دینار دے گئے۔ ۱؎
ايک اور حديث شريف :مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (إحياء علوم الدين،کتاب ذم البخل وذم حب المال، بيان فضیلۃ السخاء، حکايات الأسخياء،ج۳،ص۳۳۴)