| ضیائے صدقات |
شرم محسوس کی کہ ايک دن کی آمدنی سے کم دوں۔
منقول ہے کہ حضرت ليث بن سعد پر زکوٰۃ کبھی واجب نہيں ہوئی حالانکہ ان کی يوميہ آمدنی ايک ہزار دينار تھی۔
منقول ہے کہ ايک عورت نے حضرت ليث بن سعد رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ سے کچھ شہد مانگا تو انہوں نے ايک مَشک شہد دينے کا حکم ديا کہا گيا کہ اس کا کام اس سے کم کے ساتھ بھی چل سکتا تھا آپ نے فرمايا اگرچہ اس نے اپنی ضرورت کے مطابق مانگا ہے لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں باکثرت دیا ہے لہٰذا ہم نے بھی اسے اس کی ضرورت سے زائد دیا۔
حضرت ليث بن سعد رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ روزانہ جب تک تين سو ساٹھ مسکينوں کو صدقہ نہ دے ديتے اس وقت تک کلام نہ کرتے۔۱؎
اور حديث قدسی ہے:عَنِ الْحَسَنِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِيما يروِيْ عَنْ رَبِّہِ عزوجل أَنَّہُ یقُوْلُ: ''يا ابْنَ آدَمَ أَفْرِغْ مِنْ کَنْزِکَ عِنْدِيْ وَلَا حَرَقَ، وَلَا غَرَقَ، وَلَا سَرَقَ أُوْفِيکَہُ أَحْوَجَ مَا تَکُوْنُ إِلَيہِ''.۲؎
حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حديث قدسی بيان فرمائی، رب تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابنِ آدم! اپنا خزانہ (صدقہ کرکے) میرے سپرد کردے نہ جلے گا نہ ڈوبے گا اور نہ چوری ہوگا تیری شدید حاجت کے وقت (بروز قیامت)تجھے لوٹادوں گا۔
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (إحياء علوم الدين،کتاب ذم البخل وذم حب المال، بيان فضیلۃ السخاء، حکايات الأسخياء،ج۳،ص۳۳۴) ۲؎ (الترغيب والترھيب،کتاب الصدقات، الترغيب في الصدقۃ والحث عليھا...إلخ،الحديث:۳۰، ج۲،ص۱۱)