Brailvi Books

ضیائے صدقات
197 - 408
اور غنی کے لئے سخاوت کی تبلیغ ہوگا، اس حديث سے معلوم ہوا کہ اگر غلطی سے زکوٰۃ غير مَصرف پر خرچ کردی مثلاً کسی کو فقير سمجھ کر زکوٰۃ دی، پھر پتہ لگا وہ غنی ہے، تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی اس کا اعادہ واجب نہيں، طرفين(يعنی امام اعظم ابو حنيفہ اور امام محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما) کا یہی قول ہے، ان کی دليل يہ حديث بھی ہے کيونکہ يہاں اسے چوتھی بار صدقہ دينے کا حکم نہيں ديا گيا مگر تمام ائمہ فرماتے ہيں کہ اس صورت ميں صدقہ واپس نہ لے ہاں اس ميں اختلاف ہے کہ خود لينے والے کو يہ مال حلال ہے يا نہيں قوی يہ ہے کہ اگر اس نے غلطی سے لے ليا ہے تو حلال ہے، دانستہ ليا ہے تو حرام، اسکی دليل حضرت معن ابن يزيد کی وہ حديث ہے جو بخاری نے روايت کی کہ فرماتے ہيں ميرے والد نے صدقہ کے کچھ دينار مسجد ميں رکھے ميں نے اُٹھا لئے، پھر يہ واقعہ بارگاہ نبوی ميں پيش ہوا، تو حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمايا، اے يزيد تمہارے لئے تمہاری نيت اور اے معن جو تم نے ليا وہ تمہارا ہے (فتح القدير ومرقات)۔۱؎

    حجۃ الاسلام امام غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ''احیاء علوم الدین ''میں اللہ عزوجل کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب وفضائل میں بیان فرماتے ہیں: ہارون الرشيد نے حضرت مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت ميں پانچ سو دينار بھيجے حضرت ليث بن سعد رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے آپ کی خدمت ميں ايک ہزار دينار بھيج دئيے۔ ہارون الرشيد کو غصّہ آيا اس نے حضرت ليث سے کہا ميں نے پانچ سو دينار دئيے اور آپ نے ايک ہزار دينار دئيے حالانکہ آپ ميری رعايا ميں شامل ہيں انہوں نے فرمايا اے امير المومنين! مجھے ہر روز ايک ہزار دينار کی آمدنی ہوتی ہے تو ميں نے
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابيح، ج۳،ص۷۸تا۸۰)
Flag Counter